لاک ڈاؤن کے دوران گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ

   

l حیدرآباد میں جہیز ہراسانی کے 60 فیصد واقعات، 50 فیصد مسلم خاندانوں میں
l اندرا نگر، کشن باغ، راجندر نگر، لکشمی گوڑہ میں بڑی تعداد میں واقعات

حیدرآباد: کورونا وائرس کی وباء کے باعث لاک ڈاؤن کے دوران گھریلو تشدد کے واقعات میں خاص طور پر ابتدائی مہینوں میں اضافہ ہوا ہے۔ گھریلو تشدد کے واقعات کی صورت میں ان کی کونسلنگ کے علاوہ طبی اور قانونی امداد کرنے والی تنظیموں نے محسوس کیا کہ نوکریوں کا چھوٹ جانا اور مالی مسائل‘ گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ کا واحد سبب ہے۔ مارچ اور اپریل کے دوران خواتین پر مظالم کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جبکہ کورونا وباء کے باعث لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا جبکہ اس سے قبل یہ صورتحال نہیں تھی۔ گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ کی وجوہات میں مالی مشکلات اور کام نہ ہونا یعنی بیروزگاری ہے۔ سنکلپ ویمنس سپورٹ الائنس نامی تنظیم کی بانی انیتا نے بتایا کہ اس دوران نہ صرف شوہر اور بیوی کے درمیان تشدد اور جھگڑوں میں اضافہ ہوا ہے بلکہ باپ کی جانب سے بیٹیوں اور ان کی ماؤں کو مارپیٹ کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ سالانہ رپورٹ برائے 2019-20 کے مطابق 8,410 واقعات درج رجسٹر کئے گئے جن میں سب سے بڑی تعداد 1,193 تھی جو میڑچل۔ ملکاجگیری ضلع میں ریکارڈ کی گئی۔ رنگاریڈی میں 894 اور حیدرآباد میں 614 تشدد کے واقعات درج کئے گئے۔ آل انڈیا سماجیکا مہاجن سنگھرشنا سمیتی کی جنرل سکریٹری رُکمنی نائیک نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ واحد حیدرآباد میں جہیز ہراسانی یعنی ڈوری کے تقریباً 60 فیصد واقعات درج کئے گئے جن کے منجملہ 50 فیصد مسلم خاندانوں اور صرف 10 فیصد ہندو خاندانوں میں پیش آئے ہیں۔ بیشتر واقعات میں خاندان والے ایسے واقعات کو چھپاتے اور خاموش ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ زیادہ واقعات اندرا نگر، کشن باغ، راجندر نگر، لکشمی گوڑہ کے علاقوں میں پیش آئے ہیں، بعض خودکشی کے بھی واقعات پیش آئے ہیں۔ تنظیم کی جانب سے گھر گھر جاکر کونسلنگ کی مہم چلائی گئی اور کہانی اور جھگڑے کے تمام پہلوؤں کی سماعت کے بعد 200 سے زیادہ افراد کی کونسلنگ کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ورنگل میں ایک خاتون کو جہیز کے لئے ہراساں کیا گیا اور رقم لانے کے لئے اذیتیں دی گئیں۔ اسی طرح کئی واقعات ہیں جن کی رپورٹ تک نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس کے خلاف سخت قوانین نافذ کرنا چاہیئے اور خواتین پر مظالم کے مقدمات کی عاجلانہ یکسوئی کے لئے فاسٹ ٹریک کورٹس قائم کرنا چاہیئے۔ گھریلو تشدد کا شکار انجم سلطانہ کو شوہر اور سسرال والوں نے بغیر کسی وجہ کے تین بچوں کے ساتھ نکال دیا۔ اپنی زندگی میں بے شمار مسائل و مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد انجم ، اپنی طرح تشدد کا شکار خواتین کو انصاف دلانے کی مہم کا حصہ بن گئیں۔ انجم نے بتایا کہ گھریلو تشدد کے بے شمار واقعات ہیں لہذا خواتین پر مظالم خاص طور پر جہیز ہراسانی کے خلاف گھر گھر جاکر کونسلنگ کرنے کی تحریک شروع کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس تحریک سے مثبت تبدیلیاں آئی ہیں۔ انجم کا کہنا ہے کہ خواتین پورے سماج میں اصلاحات لاسکتی ہیں اور پُرامن ماحول قائم کرسکتی ہیں۔ عوام کے بہتر رویہ سے خوشگوار تبدیلی آسکتی ہے۔ انجم نے کہا کہ جہیز کی مانگ کے باعث ہزاروں نوجوان لڑکیوں کی شادیاں نہیں ہورہی ہیں۔ جہیز مانگنے کا چلن بڑے پیمانے پر سماج میں موجود ہے جو مختلف تنظیموں، این جی اوز اور سیاسی جماعتوں سے وابستہ خواتین کے ایک گروپ نے حال ہی میں ایک بیانر تلے آکر خواتین پر مظالم کے خلاف آواز اُٹھائی ہے۔ یہ خواتین مذہب، ذات ، طبقہ اور علاقہ کی تفریق کے بغیر متاثرہ خواتین کو انصاف دلانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہیں۔ انہوں نے خواتین پر گھریلو تشدد کے خلاف شعور بیداری تحریک کا بھی آغاز کیا ہے۔