لاک ڈاؤن کے رعایتی اوقات میں آٹو ڈرائیورس پر فینانسرس کا ظلم

   

روزگار سے محروم ، بے یار و مددگار ڈرائیورس پولیس چالانات اور فینانسرس سے پریشان حال
حیدرآباد۔ کورونا وائرس لاک ڈاؤن اور لاک ڈاؤن کے رعایت کے اوقات کے اختتام کی گہما گہمی کے دوران پولیس کی جانب سے کی جانے والی کاروائیوں سے پریشان آٹو ڈرائیورس کو گذشتہ دو یوم سے نئی پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ فینانسرس لاک ڈاؤن کے دوران آٹو ڈرائیورس سے اپنے بقایاجات کی وصولی کے لئے سرگرم ہوچکے ہیں اور پولیس کی آڑ میں اپنی سرگرمیوں کو انجام دینے لگے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ریاست میں لاک ڈاؤن میں دی گئی 4 گھنٹے کی رعایت کے دوران آٹو ڈرائیورس کی جانب سے کچھ نہ کچھ آمدنی حاصل ہوجائے اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے اور ان رعایت کے اوقات کے دوران وہ اپنی آمدنی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنا گھر چلا سکیں لیکن 4 گھنٹے کی رعایت کے دوران انہیں پولیس کا خوف تو نہیں ہے لیکن فینانسرس کا خوف طاری رہنے لگا ہے کیونکہ فینانسرس کی جانب سے آٹو چھین لئے جارہے ہیں جس کی وجہ سے انہیں آمدنی کے ذرائع سے محروم ہونا پڑرہا ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران آٹو لیکر نکلنے پر اگر محکمہ پولیس کی جانب سے آٹو ضبط نہ بھی کئے جائیں تو آٹو ڈرائیورس کی تصویر کشی کرتے ہوئے انہیں چالان حوالہ کئے جا رہے ہیں۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے مختلف علاقوں دلسکھ نگر‘ چندرائن گٹہ‘ نلگنڈہ چوراہا‘مہدی پٹنم‘ ٹولی چوکی کے علاوہ دیگر علاقوں میں آٹو ڈرائیورس سے ان کے آٹو فینانسرس بقایاجات کی وصولی کے لیے چھین رہے ہیں اور ان کی اس کاروائی پر پولیس کی جانب سے بھی کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی ہے۔ آٹو ڈرائیورس کا کہناہے کہ روزانہ فینانس کی رقم ادا کرنی ہوتی ہے یا ہفتہ واری اساس پر رقم ادا کرنی ہوتی ہے لیکن لاک ڈاؤن کے سبب کاروبار بری طرح سے متاثر ہونے کی وجہ سے وہ رعایت کے اوقات میں ہونے والی آمدنی سے اپنے اور اپنے گھروالوں کی پرورش کر رہے ہیں اسی لئے آٹو پر لئے گئے فینانس کی ادائیگی نہیں ہوپا رہی ہے ان حالات میں فینانسرس کی جانب سے آٹو چھن لینے کی کاروائیوں کے باوجود پولیس خاموش تماشائی ہونے کے سبب انہیں شدید مشکلات کا سامناکرنا پڑرہا ہے اور شہر کے بیشتر مرکزی چوراہوں پر آٹو فینانسرس غنڈہ عناصر کے ساتھ موجود رہتے ہوئے برسر عام غنڈہ گردی کر رہے ہیں اور آٹو چھین کر روانہ ہونے لگے ہیں جس کی وجہ سے 4 گھنٹے کے دوران ہونے والی آمدنی بھی متاثر ہورہی ہے اور اگر یہی صورتحال رہی تو بڑی تعداد میں آٹو ڈرائیورس کو بھیک مانگنے کی نوبت آجائے گی اسی لئے محکمہ پولیس اور حکومت کو اس سلسلہ میں اقدامات کرتے ہوئے ان فینانسرس کی رعایت کے اوقات میں جاری سرگرمیوں پر روک لگانے کے اقدامات کرنے چاہئے۔