تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیتی شعبہ کے صدرنشین شیخ عبداللہ سہیل اور کانگریس میناریٹی ڈپارٹمنٹ کے صدرنشین سمیر ولی اللہ کا احتجاج
مجلسی قائدین کی خاموشی معنیٰ خیز
حیدرآباد۔22۔ اپریل (سیاست نیوز) حیدرآباد سٹی کانگریس کمیٹی میناریٹی ڈپارٹمنٹ کے صدرنشین سمیر ولی اللہ اور تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیتی شعبہ کے صدرنشین شیخ عبداللہ سہیل نے حیدرآباد میں لاک ڈاؤن کے نام پر پولیس زیادتیوں کی سختی سے مذمت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد پولیس کا رویہ جارحانہ اور بے رحمانہ ہوچکا ہے۔ حکومت کی جانب سے 7 مئی تک لاک ڈاؤن میں توسیع کے اعلان کے بعد سے پولیس کی زیادتیوں میں اضافہ ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم لاک ڈاؤن کی تائید کرتے ہیں اور ان حالات میں خدمات انجام دینے والے ہزاروں پولیس ملازمین کی ستائش کرتے ہیں۔ تاہم بعض پولیس عہدیداروں کے گزشتہ تین دنوں میں اختیار کئے گئے رویہ سے پولیس کا امیج متاثر ہوا ہے۔ حکومت فرینڈلی پولیسنگ کا دعویٰ کر رہی ہے لیکن لاک ڈاؤن کے بارے میں شعور بیداری کے بجائے پولیس کے چند عہدیدار اور ملازمین زیادتی پر اتر آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر کسی کو مشتبہ تصور کرنا غلط ہے۔ اناج ، ادویات اور دیگر ضروری کاموں سے نکلنے والے ہر شخص پر شبہ نہیں کیا جاسکتا۔ لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں عوام ذہنی اور معاشی طور پر متاثر ہوچکے ہیں۔ 99 فیصد آبادی لاک ڈاؤن کے فوائد کی پابندی کر رہی ہے۔ چند افراد بنا کسی وجہ کے باہر نکل رہے ہیں لیکن پولیس حقیقی ضرورت مندوں کو بھی مجرمین کی طرح مارپیٹ کر رہی ہے۔ سوشیل میڈیا میں پولیس مظالم سے متعلق کئی ویڈیوز وائرل ہوچکے ہیں۔ بعض مقامات پر خواتین کو بھی بخشا نہیں گیا۔ بیمار خواتین کو ہاسپٹل جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر پولیس سختی سے عمل کرنا چاہتی ہے تو اسے 24 گھنٹے کا کرفیو نافذ کرنا چاہئے ۔ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ صبح 6 تا شام 6 بجے تک عوام خریداری کرسکتے ہیں لیکن پولیس صرف دو تین گھنٹوں کی اجازت کے بعد سختی کر رہی ہے ۔ سمیر ولی اللہ نے پولیس زیادتیوں کو روکنے کے سلسلہ میں حیدرآباد ایم پی اور مجلس کے ارکان اسمبلی کی خاموشی پر سخت اعتراض کیا ۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں کو گھروں میں رہنے کے بجائے عوام کے درمیان نکل کر پولیس زیادتیوں سے تحفظ کرنا چاہئے ۔ انہوں نے لاک ڈاؤن کے دوران پینڈنگ چالانات کی وصولی روکنے کا مطالبہ کیا۔