ہائی کورٹ کے موقف کی ستائش، کمشنر سے وضاحت کے لیے محمد علی شبیر کا مطالبہ
حیدرآباد۔ 18 جون (سیاست نیوز) سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے لاک ڈائون کی مدت میں پولیس مظالم کے خلاف ناراضگی کے اظہار کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ پولیس کی جانب سے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی حقیقت آشکار ہوچکی ہے۔ لاک ڈائون کے دوران پولیس کی جانب سے صرف مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ہزاروں کی تعداد میں مقدمات درج کئے گئے اور ایک لاکھ سے زائد گاڑیوں کو ضبط کیا گیا۔ لاک ڈائون کے نفاذ کے سلسلہ میں پولیس کو کھلی چھوٹ دی گئی جس کے نتیجہ میں پولیس نے لاٹھی کا استعمال کرتے ہوئے کئی مسلم نوجوانوں کو زخمی کردیا۔ شہر میں کئی ایسے واقعات میڈیا میں منظر عام پر آئے جس میں ملازمین پولیس نے حملہ کرتے ہوئے مسلم نوجوانوں کو زخمی کردیا۔ اپوزیشن کی جانب سے احتجاج پر حکومت اور پولیس نے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی تردید کی تھی لیکن ہائی کورٹ میں حقیقت سامنے آگئی اور چیف جسٹس نے پولیس کی جانب سے داخل کی گئی رپورٹ کو مسترد کردیا۔ عدالت کا یہ سوال اہمیت کا حامل ہے کہ لاک ڈائون کے دوران صرف مسلمانوں کو کیوں نشانہ بنایا گیا۔ عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ کیا صرف مسلمانوں نے لاک ڈائون قواعد کی خلاف ورزی کی ہے؟ محمد علی شبیر نے کہا کہ ہائی کورٹ کے ریمارکس تلنگانہ حکومت اور پولیس کی کارکردگی کو بے نقاب کرتے ہیں۔ چیف منسٹر ہمیشہ اپنی خودستائی میں مصروف رہتے ہیں۔ انہوں نے کمشنر پولیس انجنی کمار سے مطالبہ کیا کہ وہ لاک ڈائون کے دوران اقلیتوں کو نشانہ بنانے کی وضاحت کریں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ عدالت نے یہ ثابت کردیا کہ وہ ہمیشہ مظلوموں کو انصاف رسانی کیلئے تیار ہے۔ حکومت اور محکمہ پولیس کی جانب سے جو ناانصافیاں کی گئیں اس کی نشاندہی عدالت نے کی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہائی کورٹ اس مقدمہ میں متاثرہ مسلم نوجوانوں کو انصاف فراہم کرے گی۔