ترجمان پردیش کانگریس نظام الدین کا الزام
برقی اور آبرسانی شرحوں کو معاف کرنے کا مطالبہ
حیدرآباد۔ 8 اپریل (سیاست نیوز) پردیش کانگریس کمیٹی کے ترجمان سید نظام الدین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ جامع منصوبے کے ساتھ لاک ڈائون میں توسیع کرے۔ 22 مارچ سے نافذ کردہ لاک ڈائون کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی جس کے نتیجہ میں عوام کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ غریبوں کے تحفظ اور متوسط طبقات کو ضروری اشیاء کی سربراہی کا کوئی نظم نہیں کیا گیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سید نظام الدین نے کہا کہ چیف منسٹر مرکز سے لاک ڈائون میں توسیع کی سفارش کررہے ہیں جبکہ دونوں حکومتیں لاک ڈائون کے مضر اثرات اور عوام کی تکالیف کا جائزہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے دو طرح کے متاثرین ہیں، ایک مرض سے متاثر اور دوسرے لاک ڈائون سے متاثر۔ روزانہ کمانے والے افراد ٹھیلہ بنڈی تاجر، کیاب اور آٹو ڈرائیورس کے علاوہ دیگر ریاستوں کے ورکرس سخت پریشان ہیں۔ چھوٹے تجارتی اداروں کے مالکین نے ملازمین کو نشانہ بنایا ہے۔ نظام الدین نے کہا کہ لاک ڈائون کے نتیجہ میںکروڑوں کی تعداد میں روزگار سے محروم ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سفید راشن کارڈ رکھنے والوں کے لیے 12 کیلو چاول اور 1500 روپئے امداد کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ متوسط طبقات کے لیے کسی پیاکیج کا اعلان نہیں کیا گیا۔ 50 فیصد راشن کارڈ ہولڈرس کو چاول نہیں ملا اور کسی ایک شخص کے اکائونٹ میں 1500 روپئے جمع نہیں ہوئے۔ حکومت اس بات کی وضاحت کرے کہ مزید دو ہفتوں کی توسیع کی صورت میں غریب اور متوسط طبقات کا گزارا کیسے ہوگا۔ سید نظام الدین نے لاک ڈائون کی مدت کا برقی اور آبرسانی بل معاف کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری دواخانوں میں دیگر امراض کے مریضوں کو علاج سے محروم رکھا گیا ہے۔
