لاک ڈاون سے پریشان عوام کیلئے معاشی پیاکیج کا مطالبہ

   

برقی و آبرسانی بلز کی معافی و دیگر رعاتیں دینے حکومت پر زور

حیدرآباد۔تلنگانہ میں لاک ڈاؤن کے سبب ہونے والی مشکلات سے نمٹنے کیلئے ریاستی حکومت کو چاہئے کہ وہ عوام کیلئے معاشی پیاکیج کا اعلان کرے کیونکہ ریاست میں کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے ریاستی حکومت کی جانب سے کئے گئے فیصلہ کا مختلف گوشوں سے خیر مقدم کیا گیا ہے لیکن لاک ڈاؤن کے سبب ہونے والے مسائل کے حل کیلئے معاشی پیاکیج کا اعلان ناگزیر ہے ۔ سال گذشتہ بھی حکومت تلنگانہ سے عوام نے مسلسل اس بات کا مطالبہ کیا کہ حکومت عوام کے کم از کم برقی بل معاف کرے لیکن حکومت کی جانب سے اس معاملہ میں صرف تیقن دیا گیا لیکن برقی بلوں کی معافی کے سلسلہ میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ۔ ریاست میں اب لاک ڈاؤن کے دوسرے مرحلہ کے سبب بھی معاشی حالات انتہائی ابتر ہونے لگے ہیں اور ان حالا ت میں حکومت کو چاہئے کہ وہ عوام کے لئے راحت پہنچانے کے اقدامات کرے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے تاجرین اور مکینوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے کئے جانے والے فیصلہ کی کسی نے کوئی مخالفت نہیں کی لیکن ان حالا ت میں حکومت کو عوام کی ضرورتوں کا بھی خصوصی خیال رکھنا چاہئے ماہانہ فی کس صرف 5کیلو چاول جاری کئے جانے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ برقی و آبرسانی بل شہریوں کیلئے بہت بڑا مسئلہ بن جاتے ہیں اور اگر ایک یا دو مہینہ یہ بل ادا نہیں کئے جاتے ہیں تو اس پر عائد ہونے والے سود اورسود پر سود کی پالیسی کے سبب شہریوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اسی لئے ریاستی حکومت کو فوری طور پر لاک ڈاؤن کی مدت کے دوران استعمال کی جانے والی برقی بلوں کی معافی کا اعلان کرنا چاہئے تاکہ شہریوں کو کچھ حد تک راحت حاصل ہوسکے ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے برقی وآبرسانی بلوں کی معافی کا فیصلہ کئے جانے کی صورت میں اس کا فائدہ ریاست تلنگانہ کے تمام مکینوں کو ہوگا جبکہ 5کیلو چاول کی اسکیم سے مستفید ہونے والوں کی تعداد نصف سے بھی کم ہے۔سال گذشتہ لاک ڈاؤن کے دورا ن ریاستی حکومت کی جانب سے اس بات کا تیقن دیا گیا تھا کہ حکومت برقی بلوں کی معافی کے سلسلہ میں غور کرے گی اور اس سلسلہ میں اسمبلی میں بھی تیقن دیا گیا تھا اس کے باوجود بھی اب تک کوئی کاروائی نہیں کی گئی اسی لئے حکومت کو اس مرتبہ برقی بلوں کے سلسلہ میں سنجیدہ فیصلہ کرنے کے اقدامات کے ذریعہ عوام کو راحت پہنچاتے ہوئے گذشتہ لاک ڈاؤن کے دوران دیئے گئے تیقن پر عمل کرنا چاہئے ۔