لاک ڈاون میں سختی ۔ بلا وجہ گھومنے والے افراد کو اسکول میں بند کردیا گیا

   

حیدرآباد : لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل کے دوسرے دن پولیس نے آج ہوم ڈیلیوری بوائز کو اجازت دیتے ہوئے ایسے لوگوں کو نشانہ بنایا جو بلاوجہ اور بغیر پاس سڑکوں پر گھومتے نظر آئے ۔ حالانکہ چیک پوسٹوں پر سختی سے تلاشی جاری ہے لیکن کل زوماٹو اور سوئیگی فوڈ ڈیلیوری بوائز کے خلاف کارروائی کے بعد پولیس نے آج بغیر لاٹھی کا استعمال کئے عوام کو حراست میں لیا اور ان کی گاڑیاں بھی ضبط کرلی ۔ بیگم پیٹ میں پولیس نے سکندرآباد کے اطراف علاقوں میں سڑکوں پر گھومنے والے افراد کو حراست میں لے کر انہیں حیدرآباد پبلک اسکول مقفل کردیا گیا ۔ گھومنے پھرنے والے افراد کی بھاری تعداد کو صبح سے شام تک محروس کردیا گیا ۔ اس کارروائی میں خواتین کو بھی پولیس نے حراست میں لے کر اسکول کے احاطہ میں چھوڑدیا تھا ۔ ایڈیشنل کمشنر پولیس لا اینڈ آرڈر ڈی ایس چوہان کی زیرنگرانی اس کارروائی کو انجام دیا گیا اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے افراد سے ان کی سڑک پر موجودگی کی وجہ جاننے سے قبل ہی حراست میں لے لیا گیا ۔ پولیس بیگم پیٹ نے درجنوں افراد کو اسکول کے احاطہ میں قید کرکے مین گیٹ کو مقفل کردیا تھا اور سکیورٹی کیلئے پولیس فورس تعینات کردی گئی تھی ۔ لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل کے بعد دونوں شہروں میں صبح 10 بجے سے سختی برتی گئی اور دواخانوں ، ٹیکہ اندازی اور دیگر اہم کاموں کو دستاویزات کو جانچ کے بعد اجازت دی جارہی تھی ۔ لا اینڈ آرڈر پولیس کے علاوہ ٹاسک فورس بھی حرکت میں دیکھی گئی اور کئی نوجوانوں کو حراست میں لے کر گاڑیاں ضبط کرلی گئی ۔ حیدرآباد کے علاوہ سائبرآباد و رچہ کونڈہ کمشنریٹ حدود میں بھی پولیس کی کارروائی جاری رہی اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کی گاڑیاں ضبط کی گئیں ۔