حیدرآباد 7 جون (یو این آئی)شہر حیدرآباد میں لاک ڈاون میں نرمی کے دوران سادگی کے ساتھ شادیاں کی جارہی ہیں۔عموما ماہ رمضان کے بعد شادیاں مقرر کی جاتی ہیں۔لاک ڈاون میں نرمی کے بعد اب سادگی کے ساتھ شادیاں ہورہی ہیں۔کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے جو قواعد وضع کئے گئے ہیں،اس کے پیش نظر شادیوں میں شورشرابہ نظر نہیں آرہا ہے ۔ساتھ ہی شادیوں کے اخراجات میں بھی کمی دیکھی جارہی ہے ۔اب شہر کے بڑے بڑے شادی خانوں میں سناٹا چھایا ہوا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ لاک ڈاون نے حیدرآباد کے عوام کو بیجا اسراف والی شادیوں سے گریز کے لئے جھنجوڑ دیا ہے اور ایک نیاراستہ دکھایا ہے ۔کسی دور میں شادیوں میں نوشہ کا چہرا سہرے سے ڈھنکا ہوا ہوتا تھا تاہم اب نوشہ ماسک لگا کرمحفل نکاح میں نظر آئے ۔دلہنیں بھی اب شادیوں میں ماسک پہنے نظر آرہی ہیں۔پرانا شہر حیدرآباد کے یاقوت پورہ علاقہ میں ایک ایسی ہی شادی انجام پائی جس میں نوشہ کے ساتھ ساتھ قاضی صاحب اورمہمان بھی ماسک پہنے نظر آئے ۔کورونا وائرس کی وجہ سے جو پابندیاں عائد ہیں اور جو قواعد ہیں، اس کے مطابق لوگ اب شادیاں کرنے پر مجبور ہیں۔ساتھ ہی اس طرح کی شادیوں میں دلہے سے گلے مل کر مبارکبادی دینے سے بھی گریز کیاجارہا ہے اور دلہے کو شادی میں شریک افراد گلے ملنے کے بجائے صرف سلام کرنے پر ہی اکتفاکررہے ہیں۔شہرحیدرآباد میں لاک ڈاون کے بعد تقریباکئی شادیاں ہوئی ہیں۔یہ تمام شادیاں محدود مدعوئین اورسادگی کے ساتھ انجام پائیں۔ بعض شادیاں مکانات کی چھتوں پر انجام پائیں اور بیجا رسومات سے عوام محفوظ رہے۔لاک ڈاون میں ہوئی شادیوں سے جہاں عوام کی بھاری رقومات بچ گئی ہیں وہیں وہ اسراف سے بھی محفوظ رہے ۔عوام میں اس بات کا تاثر پایاجاتا ہے اب مختصر مدعوئین کے ساتھ شادیاں ہونی چاہئے۔ 20تا25ڈشس کے بجائے ایک یا دو ڈشس کے ساتھ شادیوں میں مہمانوں کی تواضع ہو۔اس کے ساتھ ساتھ اب جو شادیاں انجام پارہی ہیں،وہ دن میں بھی ہورہی ہیں کیونکہ تلنگانہ میں رات کا کرفیو نافذ ہے ۔اس طرح اب ایسا لگتا ہے کہ لاک ڈاون میں شادیوں کے لئے نئے اور موثرطریقہ کار کے لئے راہ دکھائی دے رہی ہے لیکن اس پر عمل کرنا عوام پر منحصر ہے ۔حیدرآباد میں شادیوں کے اخراجات میں روزبروز اضافہ ہی ہوتاجارہا تھااور مسابقت بھی دیکھی جارہی تھی۔اس طرح لاک ڈاون کے دوران ان اخراجات کو بھی کم کردیاگیا ہے جو شادی سے پہلے بیجا رسومات پر ہوتے تھے ۔اب لاک ڈاون کے بعد سے بینڈ باجہ،نوشہ کے لئے پودینے کا ہار،آرکسٹرا اور غزلوں کی محفلیں ختم ہوچکی ہیں۔حیدرآباد کی شادیوں میں اسراف بیجا کافی کیاجاتا ہے اور یہ شادیاں ان حماقتوں کی وجہ سے بھی دنیا بھر میں مشہور ہیں۔غیر ضروری مسابقت کی وجہ سے لوگ نہ صرف اپنی جمع پونجی لٹا چکے ہیں بلکہ ہزاروں لوگ سود خوروں کے جال میں پھنس گئے ہیں۔بھلے ہی کورونا وائرس نے اپنا قہر دکھایا ہے تاہم جہاں تک شادیوں اوردوسری دعوتوں کی بات ہے ،عوام کور احت ضرور ملی ہے ۔اب دیکھنا ہے کہ کیا حیدرآبادکے عوام سستے اور موثر طریقہ کار کو اختیار کرتے ہیں یا نہیں۔کورونا وائرس کے خوف سے آج اس طرح کی سادگی کے ساتھ شادیاں انجام پارہی ہیں لیکن اگر خوف خدا سے اسراف سے بچنے کے لئے پہلے سے ایسا طریقہ کار اختیار کیاجاتا تو لاکھوں غریب لڑکیاں گھروں میں اس طرح نہیں بیٹھی ہوتیں۔ صدر قاضی شریعت پناہ بلدہ شاہ علی بنڈہ حیدرآباد مولانا قاضی میر قادر علی خان نے کہا کہ اس لاک ڈاون کے نتیجہ میں کئی شادیاں سادگی کے ساتھ انجام پارہی ہیں۔لاک ڈاون شادیوں کے لئے اچھا ثابت ہوا ہے کیونکہ لوگ اسراف سے بچ گئے اور پُرتعیش شادیوں کا خاتمہ ہوگیا ہے ۔سماجی اجتماعات سے گریز اور شادیوں کو سادگی کے ساتھ انجام دینے میں یہ لاک ڈاون کافی معاون ومددگار ثابت ہورہا ہے ۔یہ معاشرہ کے لئے ایک بہتر روایت اور مثال بن گئی ہے ۔