تجارت میں بھاری گراوٹ، شہریوں کی ترجیحات میں تبدیلی، معیشت کے استحکام والا شعبہ شدید متاثر
حیدرآباد۔17مئی (سیاست نیوز) لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے بعد رئیل اسٹیٹ اور آٹو موبائیل صنعت بری طرح سے متاثر ہوگی اور ملک بھر میں ہونے والی تجارت میں جو حصہ ان دو شعبوں کا ہوا کرتا تھا اس میں بھاری گراوٹ ریکارڈ کی جائے گی کیونکہ لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے بعد شہریوں کی ترجیحات میں تبدیلی آجائے گی اور ان کی ترجیحات میں رئیل اسٹیٹ شعبہ اور آٹو موبائیل شعبہ کی اہمیت میں نمایا کمی ریکارڈ کی جائے گی ۔ ماہرین کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک رپور ٹ کے مطابق ہندستان میں ہونے والی تجارت میں ہندستانی عوام کی امکنہ اور رئیل اسٹیٹ میں جو ترجیحات تھیں وہ 26.74 فیصد ریکارڈ کی گئی تھیں لیکن اب جب لاک ڈاؤن ختم ہوگا تو عوام کی امکنہ اور رئیل اسٹیٹ کے شعبہ کو ترجیح محض 3 فیصد رہ جائے گا اور ان امور کی جانب سے لوگ غور نہیں کریں گے بلکہ ان کی ترجیحات لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے بعد بدلتے ہوئے روزمرہ کے اشیاء کی خریداری پر ہوں گی اور وہ ضروری اشیاء ہی خریدیں گے۔ آٹو موبائیل شعبہ میں کار اور وہیکل متعلق جو دلچسپی تھی وہ بھی کم ہوجائے گی ۔لاک ڈاؤن کے اعلان سے قبل کار اور گاڑیوں و موٹر سائیکل کی خریداری کے سلسلہ میں رجحانات کا جائزہ لینے پر یہ بات واضح ہوئی تھی کہ ہندستان میں عوام آٹو موبائیل صنعت سے خریداری کے سلسلہ میں 3 فیصد دلچسپی رکھتے تھے اور ان کے رجحانات کے اعتبار سے 3 فیصد خریداری اس صنعت میں کی جاتی تھی لیکن اب جب لاک ڈاؤن کا خاتمہ ہوگا تو اس کے بعد آٹو موبائیل صنعت کو بھی بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ ماہرین کا کہناہے کہ ہندستان میں لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے بعد جو حالات پیدا ہوں گے ان حالات میں آٹو موبائیل صنعت پر توجہ دینے والوں کا فیصد محض 0.64 رہ جائے گا۔ ماہرین کی جانب سے کی جانے والی اس پیش قیاسی کے متعلق تجارتی برادری کا کہناہے کہ اگر یہی صورتحال رہی تو ملک کی معیشت کو سہارا دینے والے اہم شعبۂ جات کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور ان نقصانات کی پابجائی کے لئے ریاستی اور مرکزی حکومتوں کی جانب سے خصوصی پیاکیج کی فراہمی کے لئے اعلانات کے ساتھ ساتھ شہریوں کی قوت خرید میں اضافہ کے اقدامات کرنے چاہئے کیونکہ لاک ڈاؤن کے بعد کاروباری نظریات کے ساتھ ساتھ صارفین کے نظریات میں بھی تبدیلی نمایاں ہوتی چلی جائے گی اور ان حالات میں صارفین کی ترجیحات تبدیل ہونے کے بعد اسے سمجھنے کیلئے صنعتکاروں اور تاجرین کو ایک برس سے زیادہ کا وقت درکار ہوگا اور اس مدت میں کئی تجارتی اداروں اور صنعتوں کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
