نظریات سے واقف کروانے ریاستوں سے وزارت داخلہ کی خواہش، زرعی شعبہ کو مزید استثنیٰ ممکن
نئی دہلی 10 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزارت داخلہ نے کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے ملک میں نافذ 21 روزہ لاک ڈاؤن کے بارے میں مختلف ریاستی حکومتوں سے تبادلہ خیال کیا۔ بالخصوص اس بات پر ان کے نظریات سے واقفیت حاصل کی گئی کہ لاک ڈاؤن میں مزید دو ہفتوں کی توسیع سے متعلق اشاروں کے درمیان آیا بعض افراد و خدمات کو استثنیٰ کے زمرہ میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ نے اپنے اعلامیہ میں ریاستی حکومتوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں کو 24 مارچ کو مرکز کی طرف سے معلنہ لاک ڈاؤن پر سختی کے ساتھ عمل آوری کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے بارے میں بھی مطلع کیا۔ لاک ڈاؤن کے دائرہ کار سے استثنیٰ کے حامل افراد اور خدمات کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی گئیں۔ وزارت داخلہ نے ریاستی حکومتوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں سے کہاکہ لاک ڈاؤن کے مختلف پہلوؤں سے اُنھیں باخبر کیا جائے۔ نیز یہ بھی بتایا جائے کہ آیا افراد اور خدمات کے مزید چند زمروں کو لاک ڈاؤن کی پابندیوں سے استثنیٰ دینے کی ضرورت ہوگی۔ چند ریاستیں جن میں بہار بھی شامل ہے اس ضمن میں مرکز کو مکتوب تحریر کئے ہیں۔ چند ریاستوں نے دیہی علاقوں میں تعمیرات سے متعلق سرگرمیوں کو استثنیٰ کے زمرہ میں شامل کرنے کی تجویز نہیں ہے۔ مرکزی حکومت نے 24 مارچ کو لاک ڈاؤن نافذ کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ بشمول آن لائن پلیٹ فارمس، ضروری اشیاء کے کاروبار سے وابستہ دوکانات بدستور کھلی رہیں گی۔ علاوہ ازیں صحت، سینیٹیشن (صفائی)، پولیس، میڈیا اور بینک خدمات نے ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں سے کہا ہے کہ وہ آسان، اطمینان بخش اور پُرسکون انداز میں فصلوں کی کٹائی، نئی فصلیں بونے کو یقینی بنایا جائے اور یہ بھی کہا تھا کہ زرعی سرگرمیوں کو بھی لاک ڈاؤن کی مدت کے دوران زرعی مشنری آلات و اوزار، ہائی وے پر ٹرک درستگی کی دوکانات، پٹرول پمپس، چائے کی صنعت اور 50 فیصد مزدوروں و محنت کشوں کے ساتھ چائے کے باغات پر پودے لگانے کی مہم کو لاک ڈاؤن سے استثنیٰ کی اجازت دی جائے۔ حکومت نے لازمی اور غیر لازمی کارگوز کو نقل و حرکت کی اجازت بھی دی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اس ہفتہ اپوزیشن سیاسی جماعتوں کے قائدین کا اجلاس منعقد کیا تھا جس کے بعد راجیہ سبھا میں قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے کہا تھا کہ وزیراعظم نے اجلاس کو بتایا تھا کہ لاک ڈاؤن میں اضافہ کے لئے اُنھیں متعدد ریاستوں سے درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ لیکن مختلف ریاستوں کے چیف منسٹروں کے علاوہ ماہرین سے تفصیلی مشاورت کے بعد ہی کوئی قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔ غلام نبی آزاد نے کہاکہ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 80 فیصد قائدین نے جنھوں نے وزیراعظم نریندر مودی سے ویڈیو کانفرنسنگ کے دوران بات چیت کی تھی۔ لاک ڈاؤن میں توسیع کی تائید کی تھی۔