لاک ڈاؤن میں گھر لوٹے دلت نوجوان نے کی خودکشی، موت سے قبل بھیجا تھا دردناک آڈیو

   

لکھنؤ ۔ 2 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) دلت نوجوان کا قصور اتنا تھا کہ گھر میں کھانے کو کچھ نہیں رہنے پر وہ آئسولیشن سے باہر نکل کر آٹا لانے چلا گیا۔ اس عمل سے ناراض یو پی پولس نے اسے بے رحمی سے پیٹا۔ تنگ آکر نوجوان نے خودکشی کر لی۔اتر پردیش میں کورونا وائرس انفیکشن کے مریضوں کی تعداد 300 کے پار ہو چکی ہے اور لاک ڈاؤن کے درمیان اتر پردیش میں پولس کئی مقامات پر زیادتیوں کی اپنی حد پار کرتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ اس ظلم کا شکار ایک دلت نوجوان بھی ہو گیا۔ مبینہ طور پر دلت نوجوان نے کوارنٹائن قوانین کی خلاف ورزی کی جس کے بعد اس پر پولس نے حد سے آگے بڑھ کر کارروائی کی جس سے تنگ آ کر نوجوان نے خودکشی کر لی۔”دوستوں، اگر کسی کو میری بات پر یقین نہ ہو تو میری پینٹ اتار کر دیکھ لینا، وہاں خون ہی خون اور پولس کی بربریت کے نشان نظر آئیں گے۔ اس بے عزتی کے بعد میرے پاس زندہ رہنے کی کوئی وجہ نہیں بچی ہے اور میں اپنی جان دے رہا ہوں…۔” یہ الفاظ یو پی کے لکھیم پور ضلع کے پھریا پپریا گاؤں کے دلت نوجوان روشن لال کے ہیں جو اس نے جان دینے سے پہلے اپنے فون میں ریکارڈ کیا تھا۔