نوجوان نسل اور بزرگوں کو گھروں میں ارکان خاندان کیساتھ عبادات کے مواقع
حیدرآباد۔5مئی (سیاست نیوز) اس ماہ رمضان المبارک کے دوران جو خصوصیات نظر آرہی ہیں ان کا جائزہ لینے کے بعد نوجوان نسل اور درمیانی عمر کے افراد کے لئے نیا تجربہ ثابت ہورہا ہے ۔ مساجد میں عبادات کی اجازت نہ ہونے کے اور تراویح کا اہتمام نہ کئے جانے کے سبب ایک طبقہ میں مایوسی پائی جاتی ہے تو ایک طبقہ اس ماہ مبارک کے دوران نظر آنے والی مثبت تبدیلیوں پر خوش ہے کیونکہ جن لوگوں کا ماننا ہے کہ مساجد میں عبادات کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے اور تراویح باجماعت اداکرنے کی بھی اجازت نہیں ہے اس سے ماہ رمضان المبار ک کی رونقیں نظر نہیں آرہی ہیں لیکن نوجوان اور درمیانی عمر کے افراد اس صورتحال کے مثبت پہلوؤں پر غور کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیںکہ اس مرتبہ ماہ رمضان المبارک کے دوران تلاوت اور افراد خاندان کے ساتھ عبادات کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت کا بھی موقع میسر آرہا ہے ۔ لاک ڈاؤن کے دوران رمضان میں تاجرین ‘ ملازمین سب ہی بے روزگار ہیں اور رمضان المبارک کے دوران انہیں عبادات کا بہترین موقع میسر آیا ہے اور وہ اس موقع سے استفادہ حاصل کرنے کی ممکنہ کوشش کر رہے ہیں کیونکہ جو حالات ہیں ان حالات میں گھرمیں ہی عبادتوں کے علاوہ افراد خاندان کے ساتھ وقت گذارنے کے سواء کوئی چارہ نہیں ہے اسی لئے یہ وقت انتہائی اہم اور یادگار تصور کیا جا رہاہے اور جن گھرو ںمیں والدین اور بچوں کے درمیان حد و ادب کے نام پر دوریاں تھیں اور بچوں کو خوف میں رکھا جاتا تھا ان گھروں میں بھی اب تبدیلی دیکھی جانے لگی ہے اور والدین بچوں کے ساتھ گھل مل کر ان کی تربیت انجام دے رہے ہیں۔ماہ رمضان المبارک کے دوران سرکاری ملازمین کی مصروفیات میں کمی ہوتی تھی اور حکومت کی جانب سے ملازمت کے اوقات میں کمی کی جاتی تھی لیکن بیشتر خانگی ملازمین کی ملازمت کے اوقات کار میں اضافہ ہوا کرتا تھا اور تاجرین کی مصروفیت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا جا تا تھا اس کے باوجود ماہ رمضان المبارک کے دوران افراد خاندان کے ساتھ کچھ وقت گذارا جاتا تھا لیکن لاک ڈاؤن کے رمضان المبار ک کے دوران جوصورتحال کا سامنا ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ کہا جا رہاہے کہ مکمل وقت گھروں میں گذارنے کے سبب صورتحال یکسر تبدیل ہونے لگی ہے اور افراد خاندان مشترکہ عبادات اور تبادلہ خیال پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں اور انہیں اس بات کا احساس ہونے لگا ہے کہ خاندانی اشتراکانتہائی اہم ہے کیونکہ اشتراکیت نہ ہونے کے سبب حالات ابتر ہوسکتے ہیں اور خاندانو ںمیں موجود قرابت داریوں میں بہتری کیلئے اس لاک ڈاؤن کے رمضان کو کافی اہمیت حاصل ہونے لگی ہے۔