بیروت۔17 جون (سیاست ڈاٹ کام) لبنان میں کئی ماہ سے بدترین اقتصادی بحران دیکھا جا رہا ہے۔ اس دوران مقامی کرنسی اپنی آدھی سے زیادہ قیمت کھو چکی ہے اور افراطِ زر کا تناسب بھی بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ملک کی تقریبا آدھی آبادی غربت کی لکیر کے نیچے پہنچ گئی ہے۔دارالحکومت بیروت کے قلب میں زیورات کی دکانوں پر شہریوں کا ہجوم نظر آرہا ہے جو اپنے پاس موجود سونے کا مختلف قسم کا زیور فروخت کرنے یا اسے گروی رکھنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ اس طرح وہ نقدی حاصل کر کے زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔زیورات کی دکانوں پر لگے بینروں پر تحریر ہے کہ ہم سونا خریدتے ہیں۔ اس کا مقصد فروخت کے خواہش مند عوام کو اپنی جانب راغب کرنا ہے۔لبنانی دارالحکومت میں ایک سْنار احمد تقی نے کہا ہے کہ ان دنوں ان کی دکان پر ایک دن گزارنا ذہنی تناؤ کا شکار ہونے کے لیے کافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اپنا قیمتی سونا بیچ رہے ہیں تا کہ دواخانوں میں علاج کے بلز، اسکولوں کی فیسیں یا پھر گھروں کے کرائے ادا کر سکیں ، اس کے سوا عوام کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔اس وقت ایک امریکی ڈالر کی قیمت 1507.5 لبنانی لیرہ کے برابر ہے۔ 15 جون کو زیادہ ترکرنسی ایکسچینجز بند ہوگئے اور امریکی ڈالر کے ضرورت مند تاجر ایک ایکسچینج سے دوسرے ایکسچینج مارے مارے پھرتے رہے۔لبنان میں ورکرز یونین نے کہا ہے کہ حالیہ بحران کے دوران ڈھائی لاکھ کے قریب افراد اپنی ملازمتوں اور روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ لبنانی کرنسی لیرہ کی قدر میں 60 فیصدکمی واقع ہو چکی ہے۔