لبنان میں ’’حکام کو پہلے دفناؤ ‘‘ عوامی احتجاج

,

   

بیروت ۔لبنان کے شہریوں نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بیروت دھماکوں پر حکوت کا مستعفی ہو جانا ہی کافی نہیں بلکہ بدعنوان عہدیداروں کو برطرف کیا جائے۔ میڈیاکے مطابق بیروت کی تباہ شدہ بندرگاہ کے قریب حکام کو پہلے دفناؤ کے عنوان سے مظاہروں کا انعقاد کیا گیا جس کے شرکا نے دیگر حکومتی عہدیداروں کے برطرف ہونے کا بھی مطالبہ کیا۔مظاہرے کے شرکا نے دیگر عہدیداروں کی برطرفی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کا مسئلہ حکومت کے مستعفی ہونے سے ختم نہیں ہو جاتا، جب تک صدر مشیل عون، اسپیکر پارلیمان اور سارا نظام اسی طرح سے برقرا ہے۔لبنان کی معاشی بدحالی، کرپشن اور غیرفعال حکومت کے بعد دھماکوں کے سانحے نے لبنان کے اکثر شہریوں کا سیاسی صورت حال سے مزید سمجھوتہ کرنا مشکل کر دیا ہے۔ لبنانی وزیراعظم حسن دیاب نے اپنی کابینہ کے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے رشوت اور بدعنوانی کو دھماکوں کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ بیروت کی بندرگاہ سے متعلقہ معاملات اس فرقہ وارانہ نظام کی عکاسی کرتے ہیں جس کے تحت چند سیاست دان 1975 کی خانہ جنگی سے لے کر اب تک ملک پر قابض ہیں۔ اس نظام کے تحت بندرگاہ کے ڈائریکٹرز کی تعیناتی میں ہر مخصوص فرقے کا کوٹہ موجود ہے۔ حسن دیاب نے سیاسی عہدیداروں کو ملک میں اصلاحات نافذ کرنے میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔ لبنان حکومت کے عالمی مانیٹری فنڈ کے ساتھ جاری مذاکرات حکومت کے بینکوں اور سیاستدانوں کے ساتھ تنازع کے باعث تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔ حسن دیاب نے رواں سال جنوری میں حزب اللہ کی حمایت سے حکومت بنائی تھی۔ حسن دیاب اور ان کی کابینہ کے مستعفی ہونے پر صدر مشیل عون پارلیمانی اراکین کے ساتھ نئے وزیراعظم کے انتخاب پر مشاورت کریں گے۔