بیروت: لبنان اور اسرائیل کے درمیان سرحدی حد بندی کے حوالے سے دونوں ملکوں کے ذمے داران کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں دوسرا اجلاس گذشتہ روز لبنان کے شہر ناقورہ میں منعقد ہوا۔اگرچہ صحافیوں کو ان ملاقاتوں کی عکس بندی یا اجلاس کے مقام کے قریب آنے کی اجازت نہیں دی گئی تاہم لبنانی سرکاری ٹیلی وڑن کی ایک خاتون رپورٹر نے تصدیق کی ہے کہ اس نے لبنانی فوج سے تصویر کشی کی اجازت لی تھی۔ لبنانی فوج اور یونیفل کی فورسز نے اجلاس کی جگہ کی سمت جانے والے راستے بند کر دیے اور علاقے میں ان کے دستوں کا گشت جاری رہا۔ علاوہ ازیں فضا میں یونیفل فورسز کے ہیلی کاپٹروں کو گشت کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔خاتون رپورٹر نیلہ شہوان نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا کہ “ناقورہ میں مذاکرات کے سیشن کی کوریج کے وقت جب کہ ہم لبنانی فوج سے تصویر کشی کی اجازت لے چکے تھے ، شہری لباس میں ملبوس تین نوجوان ہماری طرف بڑھے اور ہمیں علاقے سے باہر نکال دیا۔ انہوں نے اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ ان کا تعلق ایک مخصوص جماعت سے ہے۔
