لداخ تعطل ‘ ہند ۔ چین فوجی حکام کی آٹھویں دور کی بات چیت

   

کشیدگی کو کم کرنے جامع منصوبہ پر ہندوستان کا اصرا ر ۔ چین کا موقف غیر واضح

نئی دہلی ۔ ہندوستانی و چینی افواج کے مابین کور کمانڈر سطح کی آج آٹھویں دور کی بات چیت ہوئی جس کا مقصد مشرقی لداخ میں تمام اہم مقامات سے افواج کو پیچھے ہٹانے پر اتفاق رائے پیدا کرنا تھا ۔سرکاری ذرائع نے یہ بات بتائی اور کہا کہ دونوں ملکوں کی افواج کے مابین لائین آف کنٹرول کے ہندوستانی جانب صبح 9.30 بجے چوسل میں منعقد ہوئی تھی ۔ گذشتہ چند دنوں کے دوران ہندوستان کے اعلی فوجی عہدیداروں کی جانب سے مشرقی لداخ میں مختلف اجلاس منعقد کئے جا رہے ہیں تاکہ وہاں کی بحیثیت مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا جاسکے ۔ اجلاسوں میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ چین کے ساتھ بات چیت میں تمام اہم مقامات سے افواج کو پیچھے ہٹانے اور تصادم کو روکنے کیلئے اقدامات پر ترجیح دی جائے ۔ دونوںملکوں کے فوجی کمانڈروں کے مابین ساتویں دور کی بات چیت 12 اکٹوبر کو ہوئی تھی جس میںچین اس بات پر زور دے رہا تھا کہ پانگونگ جھیل کے جنوبی حصوںمیں اہم مقامات سے ہندوستانی افواج کو دستبردار کرلیا جائے ۔ تاہم ہندوستان کا اصرار تھا کہ افواج کی دستبرداری کا آغاز مساوی بنیادوں پر ہونا چاہئے اور دونںو ملکوں کو اس پر بیک وقت عمل کرنا چاہئے ۔ مشرقی لداخ میں تقریبا 50 ہزار ہندوستانی فوجیوں کو جنگی تیاری کی حالت میں متعین کیا گیا ہے ۔ لداخ کے بیشتر پہاڑی علاقوں میں درجہ حرارت بہت کم ہے اور دونوں ملکوں کے مابین تنازعہ کو حل کرنے کیلئے اب تک جو مذاکرات ہوئے ہیں وہ بے نتیجہ ثابت ہوئے ہیں۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ چین نے بھی اتنی ہی تعداد میں فوجیوں کو اس علاقہ میں متعین کر رکھا ہے ۔ دونوں ملکوں کے مابین فوجی تعطل ماہ مئی میں شروع ہوا تھا ۔ گذشتہ ہفتے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جئے شنکر نے کہا تھا کہ ہند۔ چین کے تعلقات انتہائی مشکل کا شکار ہیں ۔