سرینگر،3 جون(سیاست ڈاٹ کام) فوج کی وکٹر فورس کے جی او سی میجر جنرل اے سنگپتا نے کہا ہے کہ لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن پر چین کے ساتھ فوجی ٹکراؤ سے وادی کشمیر میں جنگجو مخالف آپریشنز پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔انہوں نے یہاں ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا: ‘چین کے ساتھ تناؤ دوسرے خطے میں ہے اس سے یہاں کشمیر میں جاری جنگجو مخالف آپریشنز پر کوئی فرق نہیں پڑے گا’۔دریں اثنا مشرقی لداخ میں ایل اے سی پر ہندوستان اور چین کی فوج کے درمیان جاری ٹکراؤ کے بیچ جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں سری نگر جموں قومی شاہراہ کے ساتھ ایک ایمرجنسی رن وے تعمیر کی جارہی ہے ۔اس رن وے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کو ٹالتے ہوئے موصوف جی او سی نے کہا:’یہ بھارتی فضائیہ کی ایک پہل ہے میں اس پر تبصرہ نہیں کرسکتا ہوں’۔سرکاری ذرائع کے مطابق سری نگر جموں قومی شاہرا کے ساتھ تین سے پانچ کلو میٹر طویل ایک رن وے پر تعمیری کام جنگی بنیادوں پرجاری ہے اور فی الوقت مٹی کی بھرائی کی جارہی ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ جنوبی کشمیر میں مذکورہ رن وے کی تعمیر چین کے ساتھ لداخ میں تناؤ کے پیش نظر جاری ہے ۔ طرفین کے درمیان لداخ میں ایل اے سی پر تناؤ پانچ مئی سے بڑھ رہا ہے ۔تاہم رن وے کی تعمیر سے جڑے افراد کا کہنا ہے کہ اس پر کام کرنے کا حکم نامہ چھ ماہ پہلے جاری ہوا تھا لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے وقت پر کام شروع نہیں کیا جاسکا۔ایک ذمہ دار نے بتایا: ‘یہ ساڑھے تین کلو میٹر کا کام ہے ۔ اس پر کام شروع کرنے کا حکم نامہ چھ ماہ پہلے جاری ہوا تھا۔ کورونا وائرس لاک ڈائون کی وجہ سے کام شروع نہیں ہوسکا تھا۔ اس پروجیکٹ کے ساتھ دو تین سو مزدور وابستہ ہیں۔ اس سے لوگوں کو روزگار ملے گا’۔