لندن : /30 ستمبر (ایجنسیز) لندن کے ٹیویسٹاک اسکوائر میں نصب مہاتما گاندھی کے تاریخی مجسمے میں توڑ پھوڑ کے واقعے نے نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔ یہ واقعہ 2 اکتوبر، عالمی یومِ عدم تشدد سے محض چند دن قبل پیش آیا جس پر لندن میں ہندوستانی ہائی کمیشن نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مقامی حکام سے فوری تحقیقات اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ہندوستانی ہائی کمیشن نے اپنے سرکاری بیان میں اس واقعے کو ’’شرمناک عمل‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ صرف ایک مجسمے پر حملہ نہیں بلکہ مہاتما گاندھی کی تعلیمات، عدم تشدد کی میراث اور امن کے عالمی پیغام پر براہ راست حملہ ہے۔ ہائی کمیشن کے مطابق ان کی ٹیم موقع پر موجود ہے اور مقامی حکام کے ساتھ مل کر مجسمے کو اس کی اصل حالت میں بحال کرنے کے اقدامات کر رہی ہے۔یہ مجسمہ 1968 میں انڈیا لیگ کی مدد سے تیار کیا گیا تھا تاکہ گاندھی جی کے لندن کے طالب علمی کے دنوں کی یاد تازہ کی جا سکے۔ ہر سال 2 اکتوبر کو یہاں پھول چڑھانے اور بھجن گانے کی روایت ہے لیکن اس توڑ پھوڑ نے اس ثقافتی تسلسل کو بھی متاثر کیا ہے۔مقامی پولیس نے واقعے کے بعد علاقے کی نگرانی سخت کر دی ہے اور سکیورٹی کے انتظامات بڑھا دیے ہیں۔ ہندوستانی ہائی کمیشن نے واضح کیا ہے کہ وہ تحقیقات میں بھرپور تعاون جاری رکھے گا تاکہ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے اور مجسمے کو جلد از جلد اصل حالت میں بحال کیا جا سکے۔یہ واقعہ عالمی برادری کے لیے لمحہ فکریہ ہے اور اس نے ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی کرائی ہے کہ امن اور عدم تشدد کے پیغام کو محفوظ رکھنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔