لووجہاد کی بات کریں، چھوٹے مسائل لیکر میرے پاس نہ آئیں: بی جے پی قائد

,

   

اگر آپ اپنے بچوں کا مستقبل بنانا چاہتے ہیں تو لووجہاد کو روکنا ہوگا، پارٹی کارکنوں سے خطاب

بنگلورو: کر ناٹک بی جے پی کے سربراہ نے کارکنوں سے کہا سڑک۔سیوریج کے مسئلہ پر بات نہ کریں۔ لو وجہاد کی بات کریں کر ناٹک سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نلین کمار کٹیل نے یہ کہہ کر تنازعہ کھڑا کیا ہے کہ پارٹی کارکنوں کو لو جہاد کے مسئلہ پر توجہ دینی چاہئے ناکہ سڑک اور سیوریج کے مسائل پر۔ نلین کمار کٹیل کرناٹک میں بی جے پی کے ریاستی صدر بھی ہیں، ایک پروگرام میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں آپ لوگوں سے کہہ رہا ہوں کہ سڑکوں اور سیوریج جیسے چھوٹے مسائل پر بات نہ کریں۔ اگر آپ اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں اور لو جہاد کو روکنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کے لیے بی جے پی کی ضرورت ہے۔ صرف بی جے پی حکومت ہی قانون لاکر لوجہاد کو روک سکتی ہے۔ اس لیے لوجہاد سے چھٹکارا پانے کے لیے ہمیں بی جے پی کو اقتدار میں رکھنا ہوگا۔ کرناٹک کانگریس کے سربراہ ڈی کے شیو کمار نے نلین کمار کٹیل کے لوجہاد بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کرناٹک بی جے پی لیڈر نے اچھا بیان نہیں دیا، وہ ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ڈی کے شیو کمار نے کہا انہوں نے بہت بری باتیں کی ہیں، وہ ترقی نہیں دیکھ رہے ہیں، وہ نفرت اور ملک کو تقسیم کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ وہ صرف جذبات کی بات کررہے ہیں۔ ہم لوگوں کی ترقی کی بات کر رہے ہیں اور ہم اس بات کو یقینی بنارہے ہیں۔ ان کے پیٹ بھرے ہیں، ہم روزگار پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ قیمتیں قابو میں ہوں اور عام آدمی کو کوئی پریشانی نہ ہو، ہمیں لوگوں کی روزمرہ کی ضروریات کی فکر ہے۔ فرقہ وارانہ مسائل پر بی جے پی کو بے نقاب کرنے کے کانگریس کے منصوبے کے بارے میں پوچھے جانے پر ڈی کے شیو کمار نے کہا کہ ہم 11 جنوری سے دورہ شروع کر رہے ہیں، ہم ہر کونے کونے کا سفر کریں گے اور معاشرے کے تمام طبقات سے ملیں گے۔ بی جے پی نے جو بھی کیا ہے، ہم انہیں بتائیں گے۔ یہ بی جے پی کے آخری دن ہیں۔ ان کا چراغ بجھ جائے گا، ہمارا روشن ہو جائے گا۔ کرناٹک قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن بی کے ہری پر ساد نے نلین کمار کے بیان پر کہا کہ نلین کمار نے اپنی زندگی میں ایک بار سچ بولا ہے۔ بی جے پی نے ترقی کے نام پر کچھ نہیں کیا، وہ کام کرنے میں ناکام رہے جو لوگ چاہتے تھے۔ اس لیے وہ فرقہ وارانہ مسائل کارخ کرتے ہیں۔ وہ منگلورو میں امن کو خراب کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔