’’لوٹو اور اپنے دوستوں میں بانٹو‘‘، مرکزی حکومت کی پالیسی

   

راجیہ سبھا میں قائد اپوزیشن ملکارجن کھرگے کا الزام، عوامی شعبہ کے اداروں کی فروخت کے خلاف کانگریس کا ایجی ٹیشن
حیدرآباد۔3 ۔ستمبر (سیاست نیوز) راجیہ سبھا میں قائد اپوزیشن ملکارجن کھرگے نے الزام عائد کیا کہ مرکز کی مودی حکومت ’لوٹو اور اپنے دوستوں میں بانٹو‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور عوامی شعبہ کے اداروں کو فروخت کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ گاندھی بھون میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کھرگے نے کہا کہ عوامی شعبہ کے اداروں کو بچانے کانگریس نے ملک گیر سطح پر مہم کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 12 اہم شعبہ جات کے اداروںکو فروخت کرکے حکومت سات لاکھ کروڑ روپئے کی آمدنی کا نشانہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے اہم عوامی شعبہ کے اداروں کی نجی کاری سے لاکھوں افراد روزگار سے محروم ہوجائیں گے۔ گزشتہ 70 برسوں میں ملک میں جو عوامی اثاثہ جات تیار کئے گئے ، مودی حکومت انہیں اپنے دوستوں کے حوالے کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ سرکاری اداروں کی فروخت کی مہم پر ملک کے دانشور اور میڈیا خاموش ہے۔ کھرگے نے کہا کہ ریلویز ، روڈس اور اہم عوامی شعبہ کے اداروں کی سرمایہ نکاسی کے ذریعہ چار برسوں میں 6 لاکھ کروڑ کی آمدنی کا منصوبہ بنایا گیا جو ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ کانگریس عوامی جدوجہد کے ذریعہ اثاثہ جات کی فروخت کی اجازت نہیں دیگی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام نے خاموشی اختیار کرلی تو تلنگانہ کے اہم پراجکٹس بھی فروخت کردیئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ عوامی شعبہ کے اداروں کے خاتمہ سے لاکھوں افراد روزگار سے محروم ہوسکتے ہیں۔ ریلویز میں 2014 ء سے قبل ملازمین کی تعداد 34 لاکھ تھی جو اب گھٹ کر 12.35 لاکھ ہوچکی ہے۔ کھرگے نے کہا کہ اثاثہ جات بنانا بچوں کا کھیل نہیں ۔ جس طرح بستے بستے بستی بنتی ہے ، اسی طرح ادارہ جات محنت سے قائم کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سرکاری اداروں کی ملکیت بتدریج ختم کر دیگی ۔ ہر سال دو کروڑ روزگار کا وعدہ آج تک پورا نہیں ہوا۔ انہوں نے مرکز کو مشورہ دیا کہ نقصان والے اداروں کی کارکردگی بہتر بناکر منافع بخش اداروں میں تبدیل کیا جائے ۔ ملکارجن کھرگے نے کہا کہ بی جے پی جھوٹ کو 100 بار دہراتے ہوئے عوام کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پٹرول ، ڈیزل اور پکوان گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف کانگریس کی جدوجہد جاری رہے گی۔ پریس کانفرنس میں صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی ، ڈاکٹر جے گیتا ریڈی ، محمد علی شبیر اور سمپت کمار موجود تھے۔ R