لوک سبھا اسپیکر پارلیمانی حقوق کے تحفظ میں ناکام

   

کانگریس کی خاتون ارکان پارلیمنٹ کا اوم برلا کے نام شکایتی مکتوب ، دیگر کئی الزامات
نئی دہلی۔ 9 فروری (یو این آئی) کانگریس کی خواتین ممبران پارلیمنٹ نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو خط لکھ کر ان پر حکمراں بی جے پی کے دباؤ میں اپوزیشن خواتین ممبران پارلیمنٹ کے خلاف جھوٹے ، بے بنیاد اور تضحیک آمیز الزامات لگانے اور اپوزیشن کے پارلیمانی حقوق کے تحفظ میں ناکام ہونے کا الزام لگایا ہے ۔ کانگریس ایم پی ایس جوتیمنی کے لیٹر ہیڈ پر پیر کو بھیجے گئے ایک سخت اعتراض میں، خواتین ممبران پارلیمنٹ نے لوک سبھا میں جمہوریت کی بے مثال خلاف ورزی پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ خط میں صدر جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کے دوران اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کو بولنے کی اجازت دینے سے بار بار انکار پر سوال اٹھایا گیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اسپیکر کا عہدہ ایک آئینی دفتر ہے جس کا مقصد پارلیمنٹ کے وقار کا تحفظ، غیر جانبداری کو یقینی بنانا اورپارٹی وابستگی سے قطع نظر تمام اراکین کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے ۔ اس میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چار دنوں سے قائم پارلیمانی روایت کی جان بوجھ کر خلاف ورزی کی گئی ہے ۔ کانگریس کے ممبران پارلیمنٹ نے الزام لگایا کہ جہاں راہول گاندھی کو بولنے کا موقع نہیں دیا گیا، وہیں انڈیا اتحاد کے 8 ممبران پارلیمنٹ کو “حکمران پارٹی کے اشارے پر معطل کر دیا گیا، جب کہ ایک بی جے پی ممبر پارلیمنٹ کو ایوان میں سابق وزرائے اعظم کے خلاف ’غیر مہذب اور فحش‘تبصرہ کرنے کی اجازت دی گئی۔ اسپیکر کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے ، اراکین پارلیمنٹ نے کہا کہ برلا نے ابتدا میں اعتراف کیا تھا کہ ’’سنگین غلطی‘‘ ہوئی ہے اور انہیں دن میں بعد میں آنے کو کہا تھا۔ تاہم، بعد میں میٹنگ کے دوران، انہوں نے مبینہ طور پر ان سے کہا کہ وہ اس معاملے پر حکومت کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔ دستخط کنندگان کے مطابق، اس جواب نے ایوان کے اسپیکر کے طور پر ان کے اختیار کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ خط میں لوک سبھا میں وزیر اعظم نریندر مودی کے طے شدہ خطاب کے آس پاس کے واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔ ارکان پارلیمنٹ نے کہا کہ روایتی طریقہ کار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ، وزیر اعظم کا خطاب شام 5 بجے طے کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا الائنس کے اراکین نے احتجاج کیا، اور بالآخر وزیر اعظم ایوان میں نہیں آئے ۔ خواتین اراکین پارلیمنٹ نے وزیر اعظم کے ایوان میں نہ آنے کے دفاع میں اسپیکر کے ذریعہ بعد میں جاری کردہ اس بیان سخت اعتراض کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ اس میں کانگریس کی خواتین اراکین پارلیمنٹ کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ارکان پارلیمنٹ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کا احتجاج پرامن، مضبوط اور مکمل طور پر جمہوری اصولوں کے اندر تھا۔ خط میں کہا گیا کہ ہماری دیانت پر سوال اٹھانا ہر اس خاتون پر سنگین حملہ ہے جو وقار اور ہمت کے ساتھ عوامی زندگی میں اپنی جگہ بناتی ہے ۔ ہم میں سے بیشتر پرامن پس منظر سے آتے ہیں، اور بہت سے پہلی نسل کی لیڈرہیں۔