لوک سبھا الیکشن کے چوتھے مرحلہ میں 63 فیصد رائے دہی

   

نئی دہلی : لوک سبھا انتخابات کے چوتھے مرحلہ میں آج ووٹ ڈالے گئے اور شام 5 بجے تک لگ بھگ 63 فیصد رائے دہی درج ہوئی۔ 10 ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقہ جموں و کشمیر کے 96 حلقوں میں آج پولنگ ہوئی جو مجموعی طور پر پر امن رہی۔ لوک سبھا الیکشن کے ساتھ آندھراپردیش اور اوڈیشہ کی ریاستی اسمبلیوں کے لیے بھی بہ یک وقت رائے دہی ہوئی۔ تلنگانہ کی تمام 17 لوک سبھا نشستوں کے ساتھ آندھراپردیش کے بھی تمام 25 حلقوں میں آج ایک ہی مرحلہ میں ووٹنگ مکمل ہوگئی۔ بنیادی طور پر مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی کی قیادت والے اتحاد این ڈی اے اور اپوزیشن کے کانگریس زیر قیادت انڈیا بلاک میں مقابلہ ہے۔ اوڈیشہ میں بھی لوک سبھا چنائو کے ساتھ اسمبلی الیکشن منعقد ہورہا ہے۔ آج اسمبلی کی 28 نشستوں کے لیے پولنگ ہوئی۔ آج سب سے زیادہ 75.66 فیصد پولنگ مغربی بنگال میں ریکارڈ کی گئی جبکہ جموں و کشمیر میں سب سے کم 35.75 فیصد رائے دہندوں نے اپنے ووٹ ڈالے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے کہا کہ مغربی بنگال کے بشمول تمام مقامات پر رائے دہی پرامن رہی۔ بنگال کے بعد مدھیہ پردیش68.25 فیصد، جھارکھنڈ 63.31 فیصد کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ اترپردیش اور بہار میں ترتیب وار 57.18 اور 55.62 فیصد پولنگ ریکارڈ ہوئی۔ جموں و کشمیر میں سرینگر حلقہ لوک سبھا کے لیے ووٹ ڈالے گئے جہاں سابق وزرائے اعلی اور نیشنل کانفرنس کے قائدین ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور ان کے فرزند عمر عبداللہ نے ووٹ ڈالے۔ آندھراپردیش اور تلنگانہ کی تمام لوک سبھا سیٹوں کے علاوہ آج کے مرحلہ میں اترپردیش کی 13 سیٹوں، مہاراشٹرا کی 11، مغربی بنگال کی 8، مدھیہ پردیش کی 8، بہار کی 5 سیٹوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔ جھارکھنڈ اور اوڈیشہ کی 4، 4 نشستوں کا بھی احاطہ کیا گیا۔ آج کے چوتھے مرحلہ کے ساتھ لوک سبھا کی 543 کی منجملہ 379 نشستوں کے لیے ووٹنگ مکمل ہوگئی۔ آج 96 لوک سبھا نشستوں کے لیے 1717 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں جن میں سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو (حلقہ قنوج)، اسد الدین اویسی(حیدرآباد)، شتروگھن سنہا (مغربی بنگال)، ٹی ایم سی لیڈر مہوا موئترا (کرشنا نگر)، کرکٹر سے سیاستدان بننے والے یوسف پٹھان اور سینئر کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری (دونوں مغربی بنگال )، مرکزی وزیر گری راج سنگھ(بہار)، وائی ایس شرمیلا (کڑپہ) شامل ہیں۔ مزید تین مرحلے باقی ہیں۔ 4 جون کو ووٹوں کی گنتی ہوگی۔