بی آر ایس تلنگانہ میں اقتدار سے محروم ہوسکتی ہے ، حکومت تشکیل دینے کی سمت کانگریس کی تیزی سے پیشقدمی
ریاست میں 17کے منجملہ 7 لوک سبھا حلقوں پر کانگریس، 5 پر بی آر ایس ، 4 پر بی جے پی اور ایک حلقہ پر مجلس کی کامیابی کی پیش قیاسی
حیدرآباد ۔ 28 اگست ( سیاست نیوز) انڈیا ٹوڈے ۔ سی ووٹر کے سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ تلنگانہ میں کانگریس کی جانب سے حکومت تشکیل دینے کے قوی امکانات ہیں ۔ آئندہ سال منعقد ہونے والے لوک سبھا انتخابات کیلئے انڈیا ٹوڈے اور سی ووٹر نے ملک بھر میں سروے کیا ہے جس میں تلنگانہ کیلئے چونکا دینے والے نتائج سامنے آئے ہیں جس میں بتایا گیا ہیکہ ریاست تلنگانہ کے جملہ 17 لوک سبھا حلقوں میں کانگریس پارٹی کے 7 امیدوار کامیاب ہونے کی پیش قیاسی کی گئی ہے ۔ ریاست میں کانگریس کے فی الحال تین ارکان پارلیمنٹ ہیں جس میں مزید چار ارکان پارلیمنٹ کا اضافہ ہورہا ہے ۔ بی آر ایس کے 9 ارکان پارلیمنٹ ہیں جس میں 4 ارکان پارلیمنٹ کا نقصان ہورہا ہے ۔ سروے میں بی جے پی اور مجلس کو نہ کوئی فائدہ اور نہ کوئی نقصان ہونے کی پیش قیاسی کی گئی ہے ۔ بی جے پی کو دوبارہ چار اور مجلس کو ایک نشست پر کامیاب ہونے کا اشارہ دیا گیا ہے ۔ سروے میں بی آر ایس کو چار پارلیمانی حلقوں پر نقصان اور اپوزیشن کانگریس کو چار پارلیمانی حلقوں پر فائدہ ہونے کا اشارہ دیتے ہوئے کانگریس اور بی جے پی کے درمیان اسمبلی انتخابات میں کانٹے کی ٹکر ہونے کا اشارہ دیا گیا ہے ۔ سروے میں ووٹوں کے تناسب پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے بتایا گیا ہیکہ تلنگانہ میں کانگریس کو 38 فیصد اور بی آر ایس کو 32فیصد ووٹ ملنے کی پیشن گوئی کی گئی ہے ۔ انڈیا ٹوڈے سی ووٹر کے سروے میں کانگریس کو بی آر ایس سے 6 فیصد زیادہ ووٹ ملنے کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ بی جے پی کو 23فیصد ووٹ ملنے کا اشارہ دیا گیا ہے ۔ سال 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں بی آر ایس کو 41.71 فیصد ووٹ حاصل ہوئے جو 2024 کے انتخابات میں 10فیصد ووٹ تناسب گھٹ جانے کا سروے میں پتہ چلا ہے ۔ اس طرح کانگریس کا ووٹ تناسب 29.79 فیصد سے بڑھ کر 38 فیصد تک پہنچ جانے کا اندیشہ ظاہر کیاگیا ہے ۔ ساتھ ہی بی جے پی کے ووٹ تناسب میں 4فیصد اضافہ ہونے کا سروے میں انکشاف ہوا ہے ۔ حکمران بی آر ایس کے ووٹ تناسب میں کمی اور کانگریس و بی جے پی کے ووٹ تناسب میں اضافہ کو حکمران بی آر ایس پارٹی کیلئے خطرے کی گھنٹی تصور کیا جارہا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہیکہ کانگریس کے ووٹ تناسب میں 10فیصد اضافہ ہوجانے سے ریاست میں کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان ٹکر کا مقابلہ ہونے کی توقع کی جارہی ہے ۔ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کو 7 حلقوں پر کامیابی حاصل ہونے کا سروے میں انکشاف ہوا ہے ۔ ایک لوک سبھا حلقہ میں 7 اسمبلی حلقے ہوتے ہیں اس لحاظ سے کانگریس کو اسمبلی میں 49 اسمبلی حلقوں میں کامیابی حاصل ہونے کا اشارہ دیا گیا ہے ۔ 10فیصد ووٹ تناسب کے نقصان کے ساتھ بی آر ایس کو 5 لوک سبھا حلقوں پر کامیابی دکھائی گئی ہے جس حساب سے بی آر ایس کو 35 اسمبلی حلقوں میں کامیابی حاصل ہونے کے امکانات ظاہر کئے گئے ہیں ۔ چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے 115 اسمبلی حلقوں کے امیدواروں کا اعلان کرنے کے بعد بی آر ایس پارٹی میں بڑے پیمانے پر ناراضگیاں اور باغی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا ہے ۔ ریاست کے مختلف اسمبلی حلقوں میں پارٹی کے مقامی قائدین امیدواروں کے ناموں پر دوبارہ نظرثانی کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں جن 7ارکان اسمبلی کو ٹکٹ نہیں دیا گیا ہے وہ کھل کر مخالف پارٹی سرگرمیوں میں ملوث ہورہے ہیں ۔ اس کے علاوہ ضلع کھمم میں سابق وزیر ٹی ناگیشور راؤ نے کار اور بائیک ریالی منظم کرتے ہوئے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے ۔ بی آر ایس کے رکن اسمبلی ایم ہنمنت راؤ اپنے فرزند کو ٹکٹ نہ دینے پر ناراض ہے ۔ ایکہفتہ میں اپنے مستقبل کی حکمت عملی کا اعلان کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اسمبلی حلقہ جات نرسا پور اور جنگاؤں کے امیدواروں کا اعلان نہیں کیا گیا ہے ۔ ان دونوں اسمبلی حلقوں میں پارٹی قائدین کے درمیان ٹکٹ کیلئے بڑے پیمانے پر رسہ کشی شروع ہوگئی ہے ۔ دوسری جانب حکومت کی فلاحی اسکیمات سے صرف بی آر ایس کے کارکنوں کو فائدہ پہنچانے کی شکایت وصول ہورہی ہیں اور اسکیمات سے محروم رہنے والے عوام میں حکومت کے خلاف ناراضگی پائی جاتی ہے ۔ 10سال تک اقتدار میں رہنے والی کسی بھی جماعت کے خلاف مخالف لہر فطری بات ہے ۔ کرناٹک میں کامیابی کے بعد تلنگانہ میں کانگریس کیلئے ماحول سازگار ہوگیا ہے ۔ کانگریس پارٹی حکومت کے خلاف عوام میں پائی جانے والی ناراضگی سے فائدہ اٹھانے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے اور سماج کے مختلف طبقات کیلئے ڈیکلریشن کا جو اعلانات کررہی ہے اس کا عوام میں مثبت پیغام پہنچ رہا ہے ۔ کانگریس پارٹی نے 500روپئے میں پکوان گیس ، کسانوں کے دو لاکھ روپئے تک قرضہ جات معاف کرنے ، 10لاکھ ملازمتیں فراہم ، ایس سی ۔ ایس ٹی تحفظات میں آبادی کے تناسب سے اضافہ کرنے کے علاوہ دوسرے اور بھی کئی اعلانات کئے ہیں جس سے کانگریس کیڈر میں جہاں جوش و خروش نظر آرہا ہے وہیں حکمران بی آر ایس میں بوکھلاہٹ دکھائی دے رہی ہے ۔ چیف منسٹر اور وزراء کانگریس کے خلاف جم کر مہم چلا رہے ہیں ۔ ریاست میں بی آر ایس ۔ بی جے پی کے درمیان خفیہ مفاہمت ہوجانے پر اقلیتو ں اور ساتھ ہی بی آر ایس اور مجلس کے درمیان خفیہ مفاہمت ہوجانے پر اکثریتی طبقہ میں حکمران جماعت کے خلاف ناراضگی پائی جارہی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہیکہ اگر اسمبلی انتخابات میں کانگریس کامیاب ہوجاتی ہے تو آئندہ 8ماہ بعد منعقد ہونے والے لوک بھا کے انتخآبات میں کانگریس کا موقف مزید اضافہ ہوجائے گا ۔ ن
