بہتر کارکردگی والی ریاستوں کو سزاء، کے ٹی راما راؤ کی مرکز پر تنقید
حیدرآباد۔/30 مئی، ( سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ اور وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ جنوبی ریاستوں کے قائدین اور عوام کو سیاسی وابستگی بے بالاتر ہوکر ناانصافیوں کے خلاف متحدہ طور پر آواز اٹھانی چاہیئے۔ مرکزی حکومت نے لوک سبھا نشستوں کی از سر نو حد بندی 2026 کے بعد انجام دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے جنوبی ریاستوں کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔ کے ٹی آر نے زور دے کرکہا کہ جنوبی ریاستوں کو آبادی پر قابو پانے سے متعلق مرکزی حکومت کی پالیسیوں پر موثر عمل آوری کی سزاء نہیں دی جانی چاہیئے۔ کے ٹی راما راؤ نے اپنے بیان میں کہا کہ لوک سبھا نشستوں کی 2026 کے بعد از سر نو حد بندی کا فیصلہ جنوبی ہند کی ریاستوں کے ساتھ سنگین ناانصافی ہے۔ یہ انتہائی تکلیف دہ امر ہے کہ جنوبی ریاستوں کو ترقی پسند پالیسیوں کے ساتھ آگے بڑھنے کی سزا دی جارہی ہے اور 2026 تک یہ ریاستی اضافی نشستوں سے محروم رہیں گی۔ کے ٹی آر نے افسوس کا اظہار کیا کہ لوک سبھا نشستوں میں اضافہ کا شمالی ریاستوں کو خاص طور پر فائدہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمالی ہند کی ریاستوں میں مرکزی حکومت کی بارہا اپیل کے باوجود آبادی پر قابو پانے سے متعلق مرکز کی پالیسیوں پر عمل آوری نہیں کی جاتی۔ کے ٹی آر نے کہا کہ آزادی کے بعد سے جنوبی ہند کی ریاستوں کی کارکردگی غیر معمولی رہی ہے اور ایسی ریاستوں کو فائدہ پہنچایا جارہا ہے جنہوں نے آبادی پر قابو پانے سے متعلق مرکزی حکومت کے فیصلوں پر عمل نہیں کیا۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ نے کہا کہ جنوبی ہند کی ریاستوں ٹاملناڈو، کیرالا ، آندھرا پردیش، کرناٹک اور تلنگانہ نے آبادی پر قابو پانے غیر معمولی کام کیا ہے اور جنوبی ریاستوں میں انسانی ترقی کی شرح دوسری ریاستوں سے بہتر ہے جبکہ ملک کی صرف 18 فیصد آبادی جنوبی ریاستوں میں بستی ہے اور ملک کے جی ڈی پی میں ان کی حصہ داری 35 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی معیشت کی ترقی میں اہم رول ادا کرنے والی ریاستوں کے ساتھ لوک سبھا حلقوں کی حد بندی کے معاملہ میں ناانصافی نہیں ہونی چاہئے۔ر