آبادی پر قابو پانے کی سزا، کیرالا اورٹاملناڈو کو16 نشستوں سے محرومی کا امکان
حیدرآباد۔/7 جون، ( سیاست نیوز) ملک میں لوک سبھا حلقوں کی از سر نو حد بندی کی سرگرمیوں کے دوران جنوبی ریاستوں نے آبادی کی بنیاد پر لوک سبھا حلقوں کی ازسر نو حد بندی کی مخالفت کی ہے۔ ٹاملناڈو اور کیرالا جیسی ریاستوں کو اندیشہ ہے کہ آبادی کی بنیاد پر حد بندی کی صورت میں انہیں 16 لوک سبھا حلقوں کا نقصان ہوگا جبکہ شمالی ریاستوں کی نشستوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ واضح رہے کہ 1976 میں 1971 مردم شماری کی بنیاد پر لوک سبھا کی 543 نشستیں طئے کی گئی تھیں۔ دستور میں 42 ویں ترمیم کے ذریعہ نشستوں کی از سر نو حد بندی کو 25 برسوں تک یعنی 2001 تک موخر کیا گیا تھا بعد میں مزید 25 سال کی توسیع کرتے ہوئے 2026 کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے۔ دستور کے مطابق ہر ریاست کیلئے 1971 مردم شماری کی بنیاد پر لوک سبھا نشستیں الاٹ کی گئیں۔ کیرالا کے سابق وزیر تھامس اسحاق جو سی پی آئی ایم کے سینئر لیڈر ہیں اُن کا ماننا ہے کہ 1971 مردم شماری کے تحت ریاستوں کو جو نشستیں الاٹ کی گئیں ان میں تبدیلی مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1971 مردم شماری کی بنیاد پر پارلیمنٹ میں آبادی کی پالیسی اختیار کی گئی اور اسی بنیاد پر فنڈز مختص کئے جاتے ہیں۔ جن ریاستوں نے آبادی پر قابو پانے کی اسکیم پر کامیابی سے عمل آوری کی انہیں تحفہ کے بجائے سزا نہیں ملنی چاہیئے۔ جنوبی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی قائدین اور تجزیہ نگاروں نے 2019 میں پیش کئے گئے ریسرچ پیپر کا حوالہ دیا جس میں بہار اور اتر پردیش میں 21 لوک سبھا نشستوں میں اضافہ کا اشارہ دیا گیا ہے۔ اگر 2026 مردم شماری کی بنیاد پر لوک سبھا حلقوں کا تعین ہو تو بہار اور اتر پردیش جیسی ریاستوں کو فائدہ ہوگا جبکہ ٹاملناڈو اور کیرالا 16 نشستوں سے محروم ہوجائیں گے۔ پارلیمنٹ کی نئی عمارت میں لوک سبھا کے تحت 888 اور راجیہ سبھا میں 384 نشستوں کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ لوک سبھا نشستوں کی از سر نو حد بندی میں اہم رکاوٹ جنوبی ریاستوں کی مخالفت ہے۔ جن ریاستوں میں آبادی پر قابو پانے کے اقدامات کئے گئے اور آبادی کی رفتار سُست ہے وہ نئی پالیسی سے نقصان میں رہیں گے جبکہ جن ریاستوں میں آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا وہاں اضافی نشستیں تشکیل پاسکتی ہیں۔ اسی دوران بی آر ایس کے رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر کے کیشو راؤ نے لوک سبھا حلقوں کی حد بندی میں جغرافیائی حدود پر غور کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آبادی پر قابو پانے والی جنوبی ہند کی ریاستوں کو سزا دینا مناسب نہیں ہے۔ ایک سروے کے مطابق اتر پردیش کو 26 نشستوں کا فائدہ ہوسکتا ہے جبکہ جنوبی ریاستیں بری طرح متاثر ہوں گی۔ جنوبی ریاستوں نے حد بندی کے مسئلہ پر مشترکہ جدوجہد کا فیصلہ کیا ہے۔ر