لوک سبھا حلقہ جات کی امکانی حد بندی، آبادی میں اضافہ پر دو ریاستوں کی توجہ

   

چندرا بابو نائیڈو اور ایم کے اسٹالن نے زائد بچوں کی تجویز پیش کی، آندھرا پردیش میں زائد بچوں پر مراعات کی پیشکش
حیدرآباد۔/22 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) ملک میں عام طور پر آبادی پر کنٹرول کی مہم چلائی جاتی ہے لیکن دو جنوبی ریاستوں کے چیف منسٹرس نے آبادی میں اضافہ کا عوام کو مشورہ دیتے ہوئے ہر کسی کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ چیف منسٹر آندھرا پردیش این چندرا بابو نائیڈو اور چیف منسٹر ٹاملناڈو ایم کے اسٹالن نے خاندانوں کو مشورہ دیا کہ وہ زائد بچے پیدا کریں۔ جنوبی ریاستوں میں ضعیف العمر افراد کی آبادی میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں چیف منسٹرس نے آبادی سے متعلق اپنی پالیسیوں کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگرچہ آبادی میں اضافہ کی تجویز کی وجوہات پر چیف منسٹرس نے کچھ نہیں کہا لیکن مبصرین کے مطابق دونوں ریاستوں کے پیش نظر لوک سبھا حلقہ جات کی ازسرنو حد بندی ہے۔ دونوں چیف منسٹرس سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے مقصد سے یہ تجویز پیش کررہے ہیں۔ جنوبی ہندوستان میں شرح پیدائش دیگر ریاستوں کے مقابلہ کم ہے اور ضعیف افراد کی آبادی میں اضافہ سے لوک سبھا حلقہ جات کی از سر نو حد بندی کے بعد سیاسی پارٹیوں کو اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے میں دشواری ہوسکتی ہے۔ چندرا بابو نائیڈو اور ایم کے اسٹالن نے آبادی پر کنٹرول سے متعلق ملک کی کئی دہوں سے جاری پالیسی کے برخلاف عوام سے زائد بچے پیدا کرنے کی اپیل کی۔ چندرا بابو نائیڈو نے زائد بچے رکھنے والے خاندانوں کو حکومت کی جانب سے مراعات اور رعایتوں کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ضعیف العمر افراد کی شرح میں اضافہ سے علاقہ کی معیشت متاثر ہوگی۔ جاپان، چین اور یوروپی ممالک میں ضعیف العمر افراد کی تعداد میں اضافہ سے معاشی مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ چیف منسٹر ٹاملناڈو ایم کے اسٹالن نے چینائی میں انڈومنٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے 31 جوڑوں کی اجتماعی شادی کی تقریب میں شرکت کی۔ اسٹالن نے نوبیاہتا جوڑوں کو آشیرواد دیا۔ انہوں نے آبادی میں کمی کی صورت میں ٹاملناڈو میں پارلیمانی نشستوں کی تعداد میں کمی کے اندیشہ کے تحت تجویز پیش کی کہ کیوں نہ ہم 16 بچوں کا ارادہ کریں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ فیملی پلاننگ کے معاملہ میں جنوبی ریاستیں سرفہرست ہیں اور کامیابی سے عمل کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حلقہ جات کی از سر نو حد بندی طویل عرصہ سے زیر التواء ہے۔ آندھرا پردیش اور کرناٹک سے تعلق رکھنے والے بعض کانگریس قائدین نے آبادی میں اضافہ کی تجویز کی تائید کی ہے۔ نیتی آیوگ کے اجلاس میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ریاستوں کو آبادی سے متعلق پالیسی تیار کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ مرکزی حکومت کے موقف کے بعد چندرا بابو نائیڈو حکومت نے اس قانون کو ختم کردیا ہے جس کے تحت صرف دو بچے رکھنے والے افراد کو مجالس مقامی کے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت تھی۔ کئی ریاستوں میں مجالس مقامی کے انتخابات کیلئے دو بچوں کی شرط موجود ہے۔ آسام، راجستھان، مدھیہ پردیش، گجرات، مہاراشٹرا اور اوڈیشہ میں دو سے زائد بچے رکھنے والوں کو سرکاری ملازمت کی اہلیت سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔ نیشنل فیملی ہیلت سروے کے اعداد و شمار کے مطابق بہار، اترپردیش اور جھارکھنڈ میں خواتین میں شرح پیدائش زیادہ درج کی گئی ہے جبکہ جنوبی ریاستوں میں شرح پیدائش میں کمی کا رجحان دیکھا جارہا ہے۔2031 مردم شماری کی بنیاد پر لوک سبھا حلقہ جات کی ازسر نو حد بندی ہوگی یا پھر 2026 میں حد بندی کی جائے گی اس بارے میں صورتحال غیر واضح ہے لیکن جنوبی ریاستوں کے دونوں چیف منسٹرس اپنے علاقوں میں حلقہ جات کی تعداد کو لے کر فکر مند ہیں۔1