لوک سبھا میں ہنگامہ ،کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی

   

ایوان کے وسط میں نعرے بازی، امبیڈکر کی توہین کا مسئلہ بار بار اٹھایا گیا

نئی دہلی: لوک سبھا میں اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے آج وزیر داخلہ امیت شاہ پر ڈاکٹر بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کی توہین کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ہنگامہ کیا، جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی کردی گئی۔ایک بار کارروائی ملتوی ہونے کے بعد جیسے ہی پریزائیڈنگ آفیسر پی سی موہن نے دو بجے پھر سے ایوان کی کارروائی شروع کی تو اپوزیشن اراکین نے ہنگامہ کھڑا کر دیا اور ایوان کے وسط میں آکر نعرے بازی شروع کر دی۔ ہنگامہ آرائی کے درمیان پریذائیڈنگ آفیسر نے ضروری دستاویزات ایوان کی میز پر رکھ کر اراکین سے ہنگامہ آرائی نہ کرنے اور اپنی نشستوں پر جانے کی درخواست کی لیکن اراکین نے ان کی ایک نہ سنی اور ہنگامہ آرائی جاری رکھی۔ بڑھتے ہوئے ہنگامے کو دیکھتے ہوئے پریزائیڈنگ افسر نے ایوان کی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی کر دی۔قبل ازیں 11 بجے ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی وزیر داخلہ کے بیان پر اپوزیشن اراکین نے ہنگامہ آرائی شروع کردی۔ جب اسپیکر اوم برلا نے وقفہ سوالات شروع کیا تو اپوزیشن نے ہنگامہ شروع کردیا۔ اسپیکر نے اراکین پر زور دیا کہ وہ وقفہ سوالات کو چلانے میں تعاون کریں۔ قانون اور انصاف کے وزیر مملکت ارجن رام میگھوال نے کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ بابا صاحب کی توہین کی ہے ۔ جب بابا صاحب زندہ تھے تو انہوں نے ان کی تحقیر کی اور ان کی تصویر اپنے دفتر میں لگانے سے انکار کر دیا۔ بابا صاحب کی توہین کرنے والے آج ان کی عزت کی باتیں کر رہے ہیں۔ اب بابا صاحب کا نام سنہرے حروف میں لکھا جا رہا ہے ، اس لیے یہ لوگ مجبوری میں بابا صاحب کا نام لے رہے ہیں۔ جب ہنگامہ نہ رکا اور مزید بڑھنے لگا تو اسپیکر کو ایوان کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کرنی پڑی۔