شمال اور جنوب میں 412 نشستوں کا فرق ہوگا، دیگر ریاستوں کے ساتھ مشترکہ جدوجہد کا فیصلہ، چیف منسٹر کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔13۔ اپریل (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے لوک سبھا حلقہ جات کی از سر نو حد بندی اور تعداد میں اضافہ کی مخالفت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ جنوبی ریاستوں اور چھوٹی ریاستوں کے ساتھ ناانصافی کی سازش کی جارہی ہے۔ تلنگانہ سکریٹریٹ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ لوک سبھا حلقہ جات کی از سر نو حد بندی ایک خطرناک اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا حلقوں کی تعداد میں 50 فیصد اضافہ کے فیصلہ سے محض شمالی ریاستوں کو فائدہ ہوگا جبکہ جنوبی ریاستوں کے لئے یہ فیصلہ نقصان دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے اس اقدام سے ملک کی یکجہتی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے کیونکہ جنوبی ریاستوں میں ناانصافی کا جذبہ پیدا ہوگا۔ ریونت ریڈی نے مرکزی حکومت کو تجویز پیش کی کہ 50 فیصد نشستوں کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے مردم شماری اور مجموعی شرح ترقی کے اعتبار سے ریاستوں کو الاٹ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت میں اہم حصہ ادا کرنے والی جنوبی ریاستوں کو انعام دیا جانا چاہئے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ جنوبی ریاستیں سیاسی طور پر ناانصافی کو برداشت نہیں کریں گی جبکہ ملک کی معیشت میں ان کا اہم رول ہے۔ یہ معاملہ صرف بی جے پی کا نہیں بلکہ تمام سیاسی پارٹیوں اور عوام کا ہے۔ چیف منسٹر نے یاد دلایا کہ 1967 اور 1976 میں از سر نو حد بندی کے ذریعہ لوک سبھا کی نشستوں میں اضافہ کیا گیا لیکن بعد میں نشستوں کی حد طئے کردی گئی۔ علاقائی توازن کی برقراری کے لئے آنجہانی اندرا گاندھی نے یہ فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 2001 میں اٹل بہاری واجپائی حکومت نے دستوری ترمیم کے ذریعہ 2026 تک لوک سبھا نشستوں کی تعداد کو برقرار رکھا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ریاستوں کی جانب سے نئی حد بندی کی مخالفت کی جارہی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ 50 فیصد نشستوں میں اضافہ کے نتیجہ میں شمالی اور جنوبی ریاستوں کی نشستوں میں بھاری فرق رہے گا۔ انہوں نے کیرالا اور اترپردیش کی مثال پیش کی جہاں لوک سبھا نشستوں کی تعداد 20 اور 80 ہے۔ نشستوں میں اضافہ کے بعد دونوں ریاستوں میں نشستوں کا فرق 90 ہوجائے گا کیونکہ اترپردیش کی نشستیں 120 ہوجائیں گی اور کیرالا کی نشستیں 30 ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ریاستوں کے علاوہ شمال مشرقی ریاستوں کو بھی نقصان ہوسکتا ہے۔ انہوں نے اس مسئلہ پر قومی مباحث کا مطالبہ کیا اور کہا کہ تمام سیاسی پارٹیوں ، ماہرین اور عوام کو اعتماد میں لیا جانا چاہئے ۔ پارلیمنٹ میں قطعی فیصلہ سے قبل ریاستی اسمبلیوں میں بحث کی جائے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کانگریس نے سب سے پہلے قانون ساز اداروں میں خواتین کے تحفظات کی تائید کی تھی۔ این ڈی اے حکومت 2011 مردم شماری کی بنیاد پر حلقہ جات کی از سر نو حد بندی کا منصوبہ رکھتی ہے جبکہ کانگریس پارٹی 2026 مردم شماری کی بنیاد پر خواتین تحفظات اور حلقہ جات کی حد بندی کی مانگ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ریاستوں نے فیملی پلاننگ پر موثر انداز میں عمل کیا جس کے نتیجہ میں انہیں لوک سبھا نشستوں کا نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا اقتدار کیلئے شمالی ریاستوں کی نشستوں پر انحصار ہے اور از سر نو حد بندی کے ذریعہ شمالی ہند میں نشستوں کا اضافہ کیا جارہا ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ وہ تمام شمالی ریاستوں کے چیف منسٹرس اور چھوٹی ریاستوں کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے متحدہ جدوجہد کی مساعی کریں گے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ نشستوں میں اضافہ کے فیصلہ سے جنوبی ہند میں لوک سبھا نشستیں 195 ہوں گی جبکہ شمالی ریاستوں میں نشستوں کی تعداد 620 ہوجائے گی۔ شمال اور جنوب کے درمیان 412 نشستوں کا فرق رہے گا۔ این ڈی اے حکومت کے پاس جنوبی ریاستوں کی کوئی اہمیت اس لئے بھی نہیں ہے کیونکہ اقتدار کیلئے شمالی ریاستوں کی نشستیں کافی ہیں۔1/k
انہوں نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ خواتین تحفظات اور حلقہ جات کی تعداد میں اضافہ کو ایک ساتھ نافذ نہ کرے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ 50 فیصد یعنی 273 اضافی نشستوں میں نصف نشستیں معاشی ترقی اور باقی نشستیں مردم شماری کی بنیاد پر طئے کی جائیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ خواتین تحفظات اور نشستوں کی حدبندی کو ملاکر بی جے پی سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔