لوک سبھا کی رکنیت ختم ہونا میرے لئے بڑا موقع : راہول گاندھی

,

   

معاشی بالا دستی اور اداروں پر تسلط کا غلبہ ۔ چھ ماہ قبل اصل ڈرامہ شروع ہوگیا ۔ اسٹانفورڈ یونیورسٹی طلبا سے خطاب

اسٹانفورڈ ( کیلیفورنیا ) کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے کہا کہ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ انہیں لوک سبھا کی رکنیت سے نا اہل بھی قرار دیا جاسکتا ہے تاہم انہوں نے کہا نااہلی نے انہیں عوام کی خدمت کرنے کا ایک بڑا موقع فراہم کیا ہے ۔ راہول گاندھی امریکہ کے تین شہروں کے دورہ پر آئے ہوئے ہیں اور انہوں نے باوقار اسٹانفورڈ یونیورسٹی میں ہندوستانی طلبا کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی ۔ راہول گاندھی کو جاریہ سال کے اوائل میں لوک سبھا کی رکنیت سے نا اہل قرار دیدیا گیا تھا ۔ اپنے ریمارکس میں راہول گاندھی نے کہا کہ جب انہوں نے 2000 میں سیاست میں حصہ لینا شروع کیا تھا انہوں نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ انہیں اس سب سے گذرنا پڑیگا ۔ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب کچھ ان کی سوچ سے باہر ہے ۔ لوک سبھا کی رکنیت سے اپنی نااہلی پر انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس کا بھی تصور نہیں کیا تھا ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ نا اہل قرار دئے جانے سے انہیں ایک بڑا موقع ملا ہے ۔ یہ شائد ان کی سوچ سے بھی بڑا موقع ہے ۔ سیاست اسی طرح کام کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ حقیقت میں ڈرامہ چھ ماہ قبل شروع ہوا ہے ۔ ہم جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہندوستان میں ساری اپوزیشن جدوجہد کر رہی ہے ۔ معاشی بالادستی ‘ اداروں پر تسلط عام ہوگیا ہے ۔ ہم ہمارے اپنے ملک میں جمہوری لڑائی لڑنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے انہوں نے بھارت جوڑو یاترا شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ بہت واضح ہیں کہ ہماری لڑائی صرف ہماری ہی ہے ۔ لیکن یہاں نوجوان ہندوستانی موجود ہیں۔ وہ ان طلبا سے تعلق استوار کرنا چاہتے ہیں ۔ ان سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ ایسا کرنا ان کا حق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ نہیں سمجھ پا رہے ہیں کہ وزیر اعظم کیوں نہیں یہاں آتے اور یہ بات چیت کرتے ۔ راہول گاندھی نے یہ واضح کیا کہ چین ہندوستان کو دبا نہیںسکتا اور دونوں ملکوں کے مابین تعلقات مشکل ہوگئے ہیں ۔ راہول گاندھی سے سوال کیا گیا تھا کہ وہ آئندہ پانچ تا دس سال میں ہند ۔ چین تعلقات کو کس طرح سے دیکھتے ہیں۔ راہول گاندھی نے کہا کہ فی الحال یہ مشکل ہیں۔ چین نے ہماری کچھ زمین پر قبضہ کرلیا ہے ۔ یہ کوئی آسان شراکت داری نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو پہلے اپنے مفادات کی فکر کرنی چاہئے اور ہندوستان ایک بڑا ملک ہے اور اس کے دوسرے ممالک سے تعلقات ہوتے ہی ہیں۔