نئی دہلی، 19 اگست (یواین آئی) لوک سبھا میں اپوزیشن جماعتوں کا بہار میں ووٹر لسٹ پر نظر ثانی کے معاملے پر ہنگامہ منگل کو بھی جاری رہا، جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی تیسری بار دو گھنٹے کے لیے ملتوی کرنی پڑی۔جیسے ہی پریزائیڈنگ آفیسر کرشنا پرساد تینیٹی نے دو بار کے التوا کے بعد دو بجے ایوان کی کارروائی شروع کی تو اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے ہنگامہ آرائی شروع کر دی۔ ارکان اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ لے کر نعرہ لگاتے ہوئے ایوان کے وسط میں آگئے ، تاہم پریزائیڈنگ افسر نے ہنگامہ آرائی کے درمیان ہی ایوان کو چلانے کی کوشش کی۔انہوں نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر ہندوستان کے پہلے ‘خلاباز 2047’ تک وکست بھارت کے عزم کے لئے خلائی پروگرام کے اہم کردار’ پر کل شروع ہوئی خصوصی بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے بی جے پی کے نشی کانت دوبے کا نام لیا۔ مسٹر دوبے نے ہنگامہ کے درمیان بحث شروع کرتے ہوئے کانگریس کو نشانہ بنایا اور کہا کہ اس نے کبھی سائنس دانوں کا احترام نہیں کیا، اس لیے کانگریس بحث سے بھاگ رہی ہے اور اس موضوع پر بحث نہیں چاہتی۔انہوں نے کہا کہ خلائی سائنسدان کے اعزاز میں پارلیمنٹ میں بحث چل رہی ہے لیکن کانگریس اس سے بھاگ رہی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے ملک کے خلائی تحقیقی مرکز اسرو کو برباد کرنے کا کام کیاہے ۔ انہوں نے کہا کہ 2012 کی ایک رپورٹ جس میںحکومت ہند کو 2 لاکھ کروڑ روپے کا دھوکہ دیا گیا ہے ۔ کانگریس حکومت نے سائنس دانوں اور سائنسی تحقیقی مراکز کی کبھی پرواہ نہیں کی ہے ۔