اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کو ایوان میں اظہارخیال سے روکنے پر احتجاج جاری
نئی دہلی، 4 فروری (یو این آئی) لوک سبھا میں اپوزیشن ارکان نے حکومت پر یہ الزام لگاتے ہوئے کہ اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کو ایوان میں بولنے نہیں دیا جا رہا، چہارشنبہ کے روز بھی شدید ہنگامہ کیا۔ ہنگامے کے باعث ایوان میں کوئی کام نہیں ہو سکا اور آخرکار لوک سبھا کی کارروائی پورے دن کے لیے ملتوی کرنی پڑی۔تین مرتبہ کے التوا کے بعد شام پانچ بجے جیسے ہی پریزائیڈنگ افسر سندھیا رائے نے ایوان کی کارروائی شروع کی، اپوزیشن ارکان تیزی سے ایوان کے وسط میں آ گئے اور ہنگامہ شروع کر دیا۔پریزائیڈنگ افسر نے بی جے پی کے پی پی چودھری کو صدرِ جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر اظہارِ خیال کے لیے مدعو کیا۔ چودھری نے اپنی تقریر میں کانگریس پر تنقید کی۔ اس دوران ایوان میں مسلسل شور شرابا ہوتا رہا۔ سندھیا رائے نے ارکان سے بار بار نظم و نسق برقرار رکھنے کی اپیل کی، لیکن اپیل پر عمل نہ ہوا اور ہنگامہ مزید بڑھ گیا، جس کے بعد پریزائیڈنگ افسر نے ایوان کی کارروائی پورے دن کے لیے ملتوی کر دی۔ اس سے قبل صبح 11 بجے جیسے ہی اسپیکر اوم برلا نے ایوان کی کارروائی شروع کی، اپوزیشن ارکان نے ہنگامہ کرتے ہوئے ایوان کے بیچوں بیچ آ کر نعرے بازی شروع کر دی۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے اسپیکر نے ایوان کو بارہ بجے تک ملتوی کر دیا۔ 12 بجے کارروائی دوبارہ شروع ہوتے ہی ارکان نے پھر ہنگامہ کیا اور شور کے درمیان ضروری دستاویزات ایوان کی میز پر رکھوائے گئے ۔ اس سے قبل دو بجے بھی کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن ارکان نے نعرے بازی کی، جبکہ متعدد ارکان بینرز لے کر اسپیکر کی کرسی کے سامنے پہنچ گئے ۔