نئی دہلی، 11 مارچ (یواین آئی) مغربی ایشیا کے بحران کے باعث ایندھن کی سپلائی چین پر پڑنے والے اثرات کے درمیان حکومت نے گھریلو صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ رسوئی گیس سلنڈر کی بکنگ میں گھبراہٹ کا مظاہرہ نہ کریں۔ حکومت نے آجکہا کہ وہ اس عالمی چیلنجنگ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور معمول کے دنوں کی طرح بکنگ کے ڈھائی دن کے اندر سلنڈر فراہم کر دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی متاثرہ ممالک میں پھنسے ہندوستانیوں کی سلامتی اس کی اولین ترجیح ہے ۔حکومت نے کہا کہ ایندھن کی ذخیرہ اندوزی اور کالا بازاری سے نمٹنے کے لیے بھی سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مغربی ایشیا میں پھنسے ہندوستانیوں کو واپس لانے کے لیے بھی مناسب اقدامات کیے گئے ہیں۔ خلیجی خطے میں موجود 28 ہندوستانی ایندھن ٹینکروں اور ان پر سوار 778 افراد کی سلامتی کے حوالے سے بھی حکومت چوکس ہے ۔مغربی ایشیا کے بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی معلومات دینے کے لیے منعقدہ بین وزارتی پریس کانفرنس میں متعلقہ وزارتوں کے سینئر حکام نے موجودہ صورتحال اور اس سے پیدا ہونے والے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیل پیش کی۔پیٹرولیم و قدرتی گیس کی وزارت میں جوائنٹ سکریٹری سجاتا شرما نے کہا کہ گھریلو ایل پی جی کی پیداوار بڑھانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں جس کے نتیجے میں گزشتہ چند دنوں میں پیداوار میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ باورچی گیس کو دوسرے مقاصد کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے وزارت سلنڈر ڈیلیوری تصدیقی کوڈ کو سختی سے نافذ کر رہی ہے ۔
فی الحال 90 فیصد صارفین کو اس نظام کے تحت لانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایل پی جی کے معاملے میں 60 فیصد درآمدات پر منحصر ہے اور درآمد شدہ ایل پی جی کا تقریباً 90 فیصد حصہ ایران کے قریب آبنائے ہرمز کے راستے آتا ہے جو جنگ سے متاثر ہے ۔ اس صورتحال کے پیش نظر جاری خصوصی حکم میں سرکاری ریفائنریوں کو ایل پی جی کی پیداوار زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی ہدایت دی گئی ہے ۔