لڑکیوں پر بڑھتے مظالم میں دن بہ دن اضافہ

   

نشہ کے بعد واردات کی انجام دہی ، پوسکو مقدمات میں اضافہ
حیدرآباد ۔ 15 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : کمسن لڑکیوں پر پیش آرہے مظالم اور قتل کی وارداتوں میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ یہ جرائم جہاں ایک طرف انسانیت کو شرمسار کررہے ہیں تو دوسری طرف حکومت اور پولیس کی جانب سے کئے جارہے اقدامات پر بھی سوالیہ نشان لگا رہے ہیں ۔ کمسن لڑکیوں پر مظالم ، عصمت ریزی اور قتل کی وارداتیں بڑھتی جارہی ہیں ۔ حالانکہ لاک ڈاؤن کے سبب جرائم میں کمی ہوئی تھی لیکن عصمت ریزی قتل بالخصوص کمسن لڑکیوں پر مظالم کا اس دور میں بھی اضافہ ہوا ۔ پڑوسی ، جان پہچان والے رشتہ دار دوست احباب کسی بھی زمرے سے بچیاں محفوظ نہیں ۔ ان مظالم اور انسانیت سوز جرائم میں ملوث درندوں کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ درندے کسی نہ کسی نشہ میں موجود تھے ۔ انسانیت سوز حرکتیں انجام دیتے وقت یہ درندے سے مکمل حیوان بن گئے تھے ۔ نشہ میں انہیں کم عمر لڑکی بھی دکھائی نہیں دیتی ۔ ایک جائزہ کے مطابق اس سارے فساد کے پیچھے نشیلی اشیاء کا بھی بڑا رول ہے ۔ گانجہ ، شراب و دیگر نشیلی شئے کا استعمال کرتے ہوئے جرائم کو انجام دیا گیا ۔ سال 2014 میں بچوں پر جنسی ہراسانی کے خاتون (پوسکو ) کے تحت 938 مقدمات درج کئے گئے ۔ گذشتہ سال 2020 میں تشویش ناک حد تک ان مقدمات میں اضافہ ہوا اور یہ تعداد 2,626 تک پہونچی ۔ جب کہ جاریہ سال اس تعداد میں مزید اضافہ ہوا اور یہ تعداد گذشتہ سات ماہ میں 1750 تک پہونچی ۔ حالانکہ ریاست تلنگانہ خواتین اور لڑکیوں کے تحفظ کے لیے جاری اقدامات میں اپنے آپ ایک مثال قائم کرچکی ہے ۔ جو کہ دیگر ریاستوں کے لیے ایک نظیر بن گئی ۔ تاہم اس ریاست میں جب کہ یہاں انکاونٹرس بھی ہوئے باوجود اس کے خواتین اور بالخصوص کم عمر لڑکیوں پر مظالم تھمنے کا نام ہی نہیں لیتے ۔ اس طرح کے غیر انسانی واقعات میں اکثر رشتہ داروں ، دوست احباب ، پڑوسی جان پہچان والے ملوث پائے گئے ہیں ۔A

ریاست میں پوسکو کے تحت سال 2014 سے درج مقدمات کی تفصیلات اس طرح ہیں ۔۔ A
سال مقدمات
2014 938
2015 1332
2016 1606
2017 2092
2018 2359
2019 2583
2020 2626
2021 (جولائی تک ) 1750