لڑکیوں کے ملبوسات کو تہذیب کے دائرہ میں لانے پر کھلبلی

   

Ferty9 Clinic

متعلقہ کالج کی طالبات کی جانب سے انتظامیہ کے فیصلہ کی مخالفت ۔ سرپرستوں کی جانب سے ستائش کا اظہار

حیدرآباد۔8 اگسٹ(سیاست نیوز) لڑکیوں کے ملبوسات کو تہذیب کے دائرہ میں رکھنے کالج انتظامیہ کے فیصلہ نے کھلبلی پیدا کردی ہے ۔ شہر کے معروف کالج سینٹ فرانسس میں انتظامیہ نے لڑکیوں کی کرتی اور دیگر ملبوسات پر پابندی عائد کرکے شلوار قمیص پہننے کا پابند بنانے اقدامات کئے ہیں۔ عیسائی مشنری کے زیر انتظام کالج کی طالبات نے انتظامیہ کے فیصلہ کی مخالفت کی ہے لیکن والدین کی جانب سے فیصلہ کا دفاع کیا جا رہاہے ا ورکہا جا رہاہے کہ طالبات میں بڑھتی بے باکی کو روکنے انتظامیہ کے اقدامات قابل ستائش ہیں۔ انتظامیہ ذرائع کا کہناہے کہ کالج میں تہذیب کے فروغ کیلئے اقدامات کئے جا تے ہیں اور تہذیبی گراوٹ کو برداشت کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اسی لئے کالج انتظامیہ کی جانب سے طالبات میں اخلاقیات اور تہذیبی فروغ کیلئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ کالج ذرائع کا کہناہے کہ لڑکیوں میں فیشن کے رجحان پر کنٹرول کرنے اقدامات کے سلسلہ میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کیونکہ فیشن کے نام پر لڑکیوں میں بے باکی بڑھنے لگی تھی اور بے باکی اور فیشن کے نام پر انتظامیہ بے حیائی کو فروغ دینے کے حق میں نہیں ہے اسی لئے یہ پابندی عائد کی گئی ہے اور اس پر سختی سے عمل کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ کالج انتظامیہ کی جانب سے ان احکامات کے خلاف کچھ طالبات کی جانب سے کہا جا رہاہے کہ انتظامیہ ان سے ان کے لباس کی آزادی چھین رہا ہے جبکہ فیصلہ کو سرکردہ شہریوں اور تنظیموں کی تائید حاصل ہورہی ہے ا ورکہا جا رہاہے کہ لڑکیوں کو مختصر کرتی اور چست لباس سے روکنے کالج نے جو اقدام کیا ہے وہ درست ہے اور لباس کی آزادی کے نام پر بے حیائی کو فروغ دینا مناسب نہیں ہے۔ لڑکیوں نے کالج کے اس فیصلہ پر ٹوئیٹر کا سہارا لیتے ہوئے میرا لباس میراختیار مہم شروع کی اور اس معاملہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعہ عوام تک پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے جس پر کالج انتظامیہ کے فیصلہ پر ملے جلے تاثرات موصول ہورہے ہیں

۔سوشل میڈیا پر بڑی تعداد کا کہناہے کہ سینٹ فرانسس کا لج انتظامیہ کی جانب سے کیا گیا فیصلہ ہندستانی تہذیب کی برقراری اور اس کے فروغ کے لئے بہترین ہے ۔تلگو فلموں کی اداکارہ لکشمی منچو نے کالج انتظامیہ کے فیصلہ کے خلاف احتجاج کرنے والی طالبات کے حق میں ٹوئیٹر کے ذریعہ ان کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ وقت نہیں رہا کہ ہم پر اس بات کی پابندی عائد کی جائے کہ ہم کیا پہنیں اور کیا نہیں!۔