حیدرآباد : ایک اجنبی مقام پر انجام شخص سے بات چیت اور دوستانہ تعلقات ایک لڑکی کی شادی شدہ زندگی کیلئے اجیرن بن گئی جس نے پہلے شادی میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی اور پھر بعد میں اس کے شوہر سے راز فاش کرتے ہوئے زندگی میں زہر گھولنے کی کوشش کی ۔ تاہم اس دوران پولیس کی مداخلت اور لڑکی کی شکایت پر کارروائی نے خاطی شخص کو سلاخوں کے پیچھے منتقل کردیا ۔ رچہ کنڈہ پولیس کی سائبر کرائم پولیس نے ایک اہم کارروائی میں کرناٹک کے ساکن 39 سالہ سورچ چندرا کانت چاری کو گرفتار کرلیا ۔ آرام گھر حیدرآباد کے علاقہ میں پولیس نے اس کی گرفتاری عمل میں لائی ۔ سال 2016ء میں ان کی پہچان کرناٹک کے ایک مقام پر ہوئی تھی ۔ شکایت گذار لڑکی اس وقت ساتھی کے ہمراہ کرناٹک گئی تھی اور جہاں چاری رہتا تھا، اس کے پڑوس میں رہتی تھی ۔ سورج چندر کانت چاری نے لڑکی کو دیکھا اور فیس بک کے ذریعہ فرینڈ ریکویسٹ بھیجی اور اس لڑکی نے اس کی درخواست کو قبول کرلیا ۔ دونوں کی چیاٹنگ جاری تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے دونوں بہت کم وقت میں اچھے دوست بن گئے ۔ اس دوران ایک سال قبل چاری نے لڑکی سے محبت کا اظہار کیا ، تاہم اس لڑکی نے اسے مسترد کردیا اور بحیثیت دوست بات چیت کا موقع دیا جس کے بعد چاری نے اس لڑکی سے ربط قائم رکھا اور اس دوران خوشگوار انداز میں لڑکی کی تصاویر کو حاصل کرلیا ۔چند روز گذرنے کے بعد لڑکی نے اپنی زندگی کا ایک اہم موقع اس سے شیئر کیا اور شادی کی بات بتائی اور کہا کہ اس کا رسم ہوچکا ہے جس کے بعد چاری نے لڑکی پر منگنی توڑنے اور اس سے شادی کیلئے دباؤ ڈالنے لگا ۔ تاہم لڑکی نے انکار کردیا ۔ اس دوران اس نے لڑکی سے فحش اور جنسی خواہشات پر مبنی باتیں کرنا شروع کردیا ۔ لڑکی نے اس کے نمبرات کو بلاک کردیا اور اس دوران لڑکی کی شادی ہوگئی ۔ چاری نے فرضی اکاؤنٹ تیار کرتے ہوئے لڑکی اور اس کے شوہر کے فیس بک آئی ۔ ڈی پر فرینڈ ریکویسٹ روانہ کی اور لڑکی کی عریاں تصاویر کو روانہ کیا ۔ پولیس نے شکایت پر چاری کو گرفتار کرلیا۔