پدم شری عین الحسن نے مصنفہ کو ’’مدرِ حیدرآباد‘‘ کا خطاب دیا
حیدرآباد ۔ 30 ۔ جنوری : ( راست ) : کو سیلنگ انییکسی، سکندرآباد میں محترمہ لکشمی دیوی راج کی کتاب ’’گزرے دنوں کے خواب‘‘ کی رسمِ اجراء 30 جنوری 2026 کو ایک باوقار اور پروقار تقریب کے دوران انجام پائی۔ اس کتاب کی ترتیب پروفیسر آمنہ تحسین، مانو نے دی جبکہ اس کا انگریزی ترجمہ پروفیسر آمنہ کشور نے کیا ہے۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی پدم شری عین الحسن نے کتاب کا اجراء کرنے کے بعد خطاب میں کہا کہ ’’میں نے اس کتاب کو محض پڑھا نہیں بلکہ اس کا مطالعہ کیا ہے۔ اس میں خوشی بھی ہے، رنج بھی، درد بھی اور آرزو بھی۔ کہیں زبان ہے، کہیں اسلوب اور کہیں قیامت خیز احساسات۔ مصنفہ نے ان جذبات کو بڑے معتبر اور دیانت دارانہ انداز میں پیش کیا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ کتاب کا آغاز اس جملے سے ہوتا ہے کہ ’’میری پیدائش حیدرآباد میں ہوئی‘‘ اور اختتام اس جملے پر کہ ’’میں حیدرآباد سے محبت کرتی ہوں‘‘جو وطنیت کا نہایت مضبوط اور خوبصورت اظہار ہے۔ اسی مناسبت سے انہوں نے محترمہ لکشمی دیوی راج کو ’’مدرِ حیدرآباد‘‘ کا خطاب دیا۔ مہمانِ اعزازی ڈاکٹر وید پرکاش (آرتھوپیڈک سرجن) نے محترمہ لکشمی دیوی راج کی اردو زبان پر عبور کی کھل کر ستائش کی اور انہیں ایک زندہ دل، متحرک اور ادب دوست شخصیت قرار دیا۔ پروفیسر اشرف رفیع نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’کثرتِ اصرار کے بعد لکشمی دیوی راج نے اپنے یادوں کے خزانے کو کتابی صورت دی۔ انہوں نے افسانے، خاکے اور مضامین تحریر کیے ہیں، اور یہ کتاب اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ حیدرآباد ان کی زندگی میں رچا بسا ہوا ہے۔‘‘ کتاب کی انگریزی مترجمہ پروفیسر آمنہ کشور نے کہا کہ” عموماً کتاب پہلے شائع ہوتی ہے اور ترجمہ بعد میں آتا ہے، مگر یہ ایک منفرد موقع ہے کہ کتاب اور اس کا انگریزی ترجمہ ایک ہی وقت میں منظرِ عام پر آیا ہے”۔ مرتبہ پروفیسر آمنہ تحسین نے بتایا کہ اس کتاب کی تکمیل میں پانچ سال کا عرصہ لگا- جو ان کے لئے ایک چیلنج تھا – اس میں حیدرآباد کے سنہرے دور کی تہذیب، تمنا، مشاہدات اور تجربات کو موتیوں اور نگینوں کی طرح چن کر ایک خوبصورت ہار کی صورت میں پیش کیا گیا ہے، تاکہ اس نایاب تاریخ کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا جا سکے”۔ جناب سجاد شاہد، سکریٹری اردو مجلس نے کہا کہ لکشمی دیوی راج اردو زبان کی سچی عاشق اور گنگا جمنی تہذیب کی علمبردار ہیں، اور آنے والی نسلیں یقیناً ان پر فخر کریں گی۔ صاحبِ کتاب محترمہ لکشمی دیوی راج نے اس موقع پر اپنے نواسے، نواسی، پوتے اور پوتی کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے اس کتاب کی تخلیق میں انہیں حوصلہ دیا اور ساتھ نبھایا۔ تقریب میں پروفیسر شگفتہ شاہین نے شکریہ ادا کیا، جبکہ جناب قدسی رضوی نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ اس موقع پر شہر کی متعدد باوقار اور معروف ادبی شخصیات موجود تھیں، جن میں جناب عامر علی خان (نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست) ، عامر اللہ خان (ماہرِ معاشیات)، محترمہ اودھیش رانی باوا،محترمہ انیس عائشہ اور معروف سماجی جہدکار رفیعہ نوشین کے علاوہ صاحبِ کتاب کے افرادِ خاندان کی بڑی تعداد شامل تھی۔ تقریب نہایت خوشگوار، ادبی اور تہذیبی ماحول میں اختتام پذیر ہوئی۔