لکھنؤ: لکھنؤ یونیورسٹی کے حکام نے ہفتہ کے روز کیمپس میں مبینہ طور پر بے ضابطگی کے الزام میں ایک غیر ملکی طالبہ کو معطل کر دیا۔ ایل یو پراکٹر آفس نے معطلی کا نوٹس افغانستان سے تعلق رکھنے والی طالبہ علم کو جاری کیا جو پبلک ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ میں پی ایچ ڈی کررہی ہے۔ طالبہ نے مبینہ طور پر موبائل نمبر حاصل کرنے کے لیے ایک ہندوستانی طالبہ کی سرکاری شناخت کا غلط استعمال کیا اور اسے افغانستان سے تعلق رکھنے والی بی سی اے کی طالبہ کو ذہنی طور پر ہراساں کرنے کے لیے استعمال کیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس طالب علم کے خلاف سنگین الزامات پر کارروائی کی ہے۔ریسرچ اسکالر اور بی سی اے کی طالبہ دونوں لکھنؤ یونیورسٹی کے نیودیتا گرلز ہاسٹل میں روم میٹ تھے۔ دونوں میں جھگڑا ہوا جس کے بعد پی ایچ ڈی اسکالر نے بی سی اے کی طالبہ کی تصاویر اور ویڈیوز بنائیں، متاثرہ کا جعلی انسٹاگرام اکاؤنٹ بنایا اور اس کی تصاویر فارسی میں نامناسب پیغامات کے ساتھ پوسٹ کیں۔ اس نے متاثرہ خاندان کے افراد کو بھی ٹیگ کیا۔متاثرہ کی جانب سے پراکٹر کے دفتر میں شکایت درج کرانے کے بعد، افغان ریسرچ اسکالر کے خلاف الزامات درست پائے گئے۔ اسے معطل کر دیا گیا اور وجہ بتاؤ نوٹس جاری کی گئی۔ معاملے کی تحقیقات شروع کرنے کے ساتھ ساتھ طالبہ کو تین دن کے اندر اپنا موقف پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔ ملزم طالب علم کے اس فعل کے انکشاف کے بعد یونیورسٹی میں اس کا کافی چرچا ہو رہا ہے۔ یہ بتایا گیا ہے کہ ہندوستانی طالبہ سے اس کی آئی ڈی چھین کر اس سے موبائل سم نکال کر ایک سال تک اس کا غلط استعمال کیا گیا اس کے بعد اس نے لکھنؤ یونیورسٹی میں زیر تعلیم دیگر طالبات کو اور ان کے رشتہ داروں کو ہراساں کیا جس کی وجہ سے گھر والوں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
شکایت ملنے کے بعد لکھنؤ یونیورسٹی فوراً حرکت میں آگئی اور افغانستان سے آنے والی طالبہ کے لکھنؤ یونیورسٹی میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی۔لکھنؤ یونیورسٹی کے ترجمان پروفیسر۔ درگیش سریواستو نے بتایا کہ یہ طالب علم کابل، افغانستان کا رہنے والی ہے۔ وہ لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن میں ریسرچ اسکالر ہے۔ اس طالب علم کے خلاف کئی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ترجمان نے کہا کہ اس کے بعد چیف پراکٹر پروفیسر راکیش دویدی نے ملزم طالبہ کو تحقیقات کی مدت تک یونیورسٹی سے فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ یہی نہیںطالبہ کے ہاسٹل کی الاٹمنٹ بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ لکھنؤ یونیورسٹی کی جانب سے طالبہ سے یونیورسٹی کی تمام سہولیات چھین لی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ یونیورسٹی میں ان کے داخلے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس کی اطلاع گیٹ پر تعینات تمام سکیوریٹی عہدیداروں کو دے دی گئی ہے۔ترجمان درگیش سریواستو نے بتایا کہ اس کے ساتھ ساتھ طالبہ کو بھی اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا ہے، اس لیے اسے تین دن کے اندر یہاں آکر تحریری وضاحت دینا ہوگی، جس کے لیے نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔ اس دوران اگر وہ ایسا نہیں کرتی ہیں تو لکھنؤ یونیورسٹی کی جانب سے اس کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔