ریپ ملزمین کو رہا کروانے والوں سے تحفظ کی امید نہیں
لکھیم پور کھیری :اتر پردیش کے کھیری میں پیش آئے عصمت ریزی کے واقعہ پر کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ٹویٹ کیا کہ ’’لکھیم پور میں دو نابالغ دلت بہنوں کا دن دھاڑے اغوا کے بعد قتل ایک انتہائی پریشان کن واقعہ ہے۔عصمت دری کرنے والوں کو رہا کرانے اور ان کی عزت کرنے والوں سے خواتین کے تحفظ کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ ہمیں اپنی بہنوں اور بچیوں کے لیے ملک میں محفوظ ماحول بنانا ہے۔‘‘ چہارشنبہ کو اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری ضلع کے ایک گاؤں کے باہر دو دلت بہنوں کی لاشیں ایک درخت سے لٹکی ہوئی ملی۔ لاش ملنے پر کہرام مچ گیا۔ متوفی لڑکیوں کی ماں کا الزام ہے کہ چہارشنبہ کی دوپہر 3 نوجوان ان کی بیٹیوں کو اٹھا کر لے گئے اور پھر ان کا قتل کرنے کے بعد لاشوں کو درخت سے لٹکا دیا۔یہ واقعہ نگھاسن تھانہ علاقہ کے تمولین گاؤں کا ہے۔ لاش ملنے کے بعد اہل خانہ نے روڈ بلاک کر کے ملزمین کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر معاملے کی تفتیش شروع کر دی۔ لکھیم پور کھیری کے ایس پی سنجیو سمن نے بتایا کہ اس جرم میں ملوث کل 6 ملزمان کو مختلف طریقوں سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزمان کی شناخت چھوٹو، جنید، سہیل، حفیظ، کریم الدین اور عارف کی حیثیت سے ہوئی ہے۔ ملزم جنید پولیس کے ساتھ مد بھیڑ میں پکڑا گیا جہاں اسے ٹانگ میں گولی لگی۔ایس پی نے بتایا کہ ملزمان لڑکیوں کے دوست تھے۔ سہیل اور جنید نے کھیتوں میں لڑکیوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ میڈیاکے مطابق لڑکیوں کو زبردستی شادی پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی اور اس کے بعد سہیل، حفیظ اور جنید نے ان کا گلا دبا کر قتل کردیا۔ اس کے بعد اس نے کریم الدین اور عارف کو بلایا اور ثبوت مٹانے کے لیے لڑکیوں کو درخت پر لٹکا دیا۔