خوردنی اشیاء کی بڑھتی قیمتوں کو کنٹرول کرنا ضروری ، مہنگائی کی شرح 9.36 فیصد
نئی دہلی: راجیہ سبھا میں پیر کو وقفہ صفرکے دوران کئی ارکان نے ملک میں مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی، تعلیمی نظام میں تبدیلی اور آسمانی بجلی گرنے سے ہونے والی اموات جیسے کئی مسائل اٹھائے ۔سماج وادی پارٹی کے رام گوپال یادو نے کہا کہ تعلیم کا مقصد بنیادی طور پر انسان کی شخصیت کی نشوونما سے متعلق ہے ۔ ملک میں جس طرز تعلیم کا سلسلہ چل رہا تھا اس نے ملک کو عظیم لوگ دیئے ہیں لیکن نئے نظام تعلیم میں پرانے نظام اور طلبہ میں اظہار خیال کی صلاحیت کو ختم کر دیا ہے ۔ مسابقتی امتحانات میں معروضی سوالات پوچھے جاتے ہیں، جس سے نقل کو فروغ ملتا ہے ۔ بی جے پی کے سمیر سنگھ سولنکی نے مانسون کے موسم میں آسمانی بجلی گرنے سے ہونے والی اموات کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہر سال اس موسم میں دس سے پندرہ ہزار لوگ ہلاک ہوجاتے ہیں۔ دیہاتوں اور کھلی جگہوں پر اسے روکنے کیلئے لائٹنگ کنڈکٹر لگائے جانے چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ اسے قومی آفت قرار دیا جائے اور اس کیلئے برابر معاوضہ دیا جائے ۔کے سی (ایم) پارٹی کے جوش کے منی نے پلاسٹک کچرے سے ہونے والے نقصانات کا مسئلہ اُٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے دس سال قبل جو صفائی مہم شروع کی تھی، وہ اس سے نمٹنے میں ناکام رہی ہے ۔ ہندوستان دنیا میں سب سے زیادہ پلاسٹک کا کچرا پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ کانگریس کے شکتی سنگھ گوہل نے گجرات میں شدید سیلاب سے لوگوں کے متاثر ہونے کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے گجرات کے شہر اور دیہات کی حالت خراب ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بارش کے پانی کی مناسب نکاسی نہ ہونے کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے ۔ ناجائز تجاوزات اور تعمیرات کی وجہ سے بھی پانی نہیں نکل پارہا ہے ۔ترنمول کانگریس کے پرکاش چک بارک نے کھانے پینے کی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح 9.36 فیصد تک پہنچ گئی ہے ۔ اس نے ملک کے ہر شہری کو متاثر کیا ہے ۔ انہوں نے کئی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تشویشناک بات ہے کیونکہ غریب سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کنٹرول کرنا ضروری ہے ۔