حیدرآباد۔2اکٹوبر(سیاست نیوز) مشیر حکومت ہند برائے چیف اکنامسٹ کے وی سبرامنین نے پانچ ٹریلین کی معیشت کو یقینی قراردیتے ہوئے کہاکہ پانچ ٹریلین کا خواب یقینا ایک بڑی خواہش ہے مگر یہ ناممکن بھی نہیںہے۔بابائے قوم گاندھی جی کی 150ویں یوم پیدائش کے موقع پرمنتھین کے روایتی پروگرام سمواد میں ’’ پانچ ٹریلین کی معیشت‘‘ کے عنوان پر خطاب کے دوران سبرامنین نے کہاکہ ہندوستان کو ایک ٹریلین کی معیشت کے مقام پر پہنچنے کے لئے 55سال کا وقت لگا مگر 2014-2019کے درمیان محض پانچ سال میںاس میںمزید ایک ٹریلین شامل کرلیاگیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے بڑھتی بے روزگاری اور مقفل ہورہی آٹوموبائیل انڈسٹری کے متعلق کئے جانے والے سوالات کو نظر انداز کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے پانچ ٹریلین کی معیشت کے نشانے کو پار کرنے کے لئے کی جانے والی کوششوں کی ستائش کی ۔انہوں نے کہاکہ سرمایہ کاری میںاضافے کو ملازمتوں کی فراہمی اور درامدات کے رحجان میں فروغ کا سبب بھی قراردیا ۔اپنے روایتی انداز میں حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے کے وی سبرامنین نے سرمایہ کاری کو بڑھانے میںتین ساختی عوامل کا ذکر کیا۔ حالانکہ مسٹر سبرامنین سے جی ڈی پی میںگراوٹ پر بھی سوال پوچھا گیا جسکا سیدھا جواب دینے کے بجائے انہوں نے پانچ ٹریلین معیشت کے اعلان اور پچھلے پانچ سالوں میں مودی حکومت کی جانب سے ایک ٹریلین تک رسائی پر بات کرنا شروع کردیا۔ انہوں نے کہاکہ پالیسیاں ایم سی ای ایم ای کے فروغ کو فعال بناتی ہیں ۔
انہوں نے حکومت کی موجودہ پالیسیوں کو چھوٹی صنعت کے لئے فائدہ مند قراردیا اور کہاکہ اس سے علاقائی سطح پر ملازمتیں تشکیل پائیںگی ۔ انہوں نے دیہی علاقوں میںای ٹی ایم مشینوں کی تنصیب کو بھی روزگار سے جوڑنے کی کوشش میںکہاکہ اگر دیہی علاقوں میںاے ٹی ایم مشینیں لگانے کاکام شروع کیاجائے گاتو اس سے مشینوں کی تیاری میںبھی تیزی آئے گی اور اس کے لئے عملہ درکار ہوگا جبکہ اے ٹی ایم مشینوں پر گارڈس کی تعیناتی بھی روزگار کی فراہمی کا حصہ ہوگا۔دراصل سبرامنین نے نوٹ بندی کی وکالت میں ہی دیہی علاقوں میں اے ٹی ایم مشینوں کی تنصیب پر زوردے رہے تھے۔مسٹر سبرامنین نے لیبر قوانین میں عائد تحدیدات کو کم کرنے پر زوردیاتاکہ ترقی کے راستے میںحائل رکاوٹوں کو دورکیا جائے اور اس کے لئے انہوں نے راجستھان کی مثال پیش کی ۔ اس کے علاوہ انہوں نے ضلعی سطح اور ہائی کورٹس اور ماتحت عدالتوں میںججوں کی تعیناتی کے ذریعہ ترقی میںحائل قانونی رکاوٹوں کو دور کرنے پر بھی بات کی ۔ حالانکہ چیف اکنامسٹ ہونے کے باوجود گرتی معیشت کو سنبھالنے کا طریقے کار بتانے کے بجائے مسٹر کے وی سبرامنین نے اپنے خطاب کا آخری بڑا حصہ سوچھ بھارت اور حکومت ہند کی فلاحی اسکیمات بیان کرنے میںگنوادیا۔