لیبیاء کے ساحل کے قریب 300 تارکین وطن کی مزاحمت: اقوام متحدہ

   

Ferty9 Clinic

قاہرہ 15 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) لیبیاء کے ساحلی محافظین نے 300 یوروپ جانے والے تارکین وطن کو بحر روم کے اپنے ملک کے ساحلی شہر پر روک گیا اور اُنھیں طرابلس منتقل کردیا۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تارکین وطن نے اِس کا انکشاف کیا۔ اپنے ٹوئٹر پر اقوام متحدہ کے اِس شعبہ نے کہاکہ تارکین وطن کو لیبیاء کے حراستی مرکز میں منتقل کردیا گیا ہے اور اُن کی کشتیاں تیزی سے ساحل پر واپس پہنچادی گئی ہیں۔ اِس قسم کا اقدام ناقابل قبول ہے حالانکہ مخدوش صورتحال سے دوچار تارکین وطن کا حراستی مراکز میں استحصال کیا جاتا ہے اِس لئے بین الاقوامی ادارہ نے افریقی اور عرب تارکین وطن کو جو اپنے متعلقہ ممالک کی غربت کا مقابلہ کرنے کے لئے یوروپ فرار ہورہے ہیں، اُن کے متعلقہ ممالک کے حوالہ کردینے کی اپیل کی تھی۔ انسانی حقوق تنظیموں نے کہاکہ تارکین وطن کے ساتھ رحم و ہمدردی کا سلوک اختیار کرنے کی اُن کی تمام اپیلیں غیر مؤثر ثابت ہوئیں اور اُنھیں لیبیاء کے حراستی مراکز میں منتقل کیا گیا ہے۔ جہاں پر کافی مقدار میں کافی غذائی اور پینے کا صاف پانی بھی دستیاب نہیں ہے۔ یوروپی یونین نے قبل ازیں جاریہ سال تارکین وطن مخالف کارروائیوں کے انسداد سے اتفاق کرلیا تھا چاہے تارکین وطن کو غیرقانونی طور پر منتقل کیوں نہ کیا جارہا ہو۔ صرف جاسوس طیاروں اور فوجی بحری جہازوں کو قانون و انتظام کی ذمہ داری سپرد کی گئی تھی۔ اقوام متحدہ کی اِن ہدایات کی لیبیاء کی جانب سے خلاف ورزی کی گئی ہے۔