انقرہ : ترکی نے لیبیا میں ایئر ڈیفنس نظام پر ہونے والے حملے پر سخت غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے کے بعد حالات مزید کشیدہ ہوں گے اور اس کا بدلہ لیا جائے گا۔مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق ترکی کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ‘میں صرف جو بات کہہ سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ جس نے بھی یہ کیا ہے اس نے بڑی غلطی کی ہے’، انہوں نے مزید کہا کہ ‘اس کا بدلہ لیا جائے گا’۔ ایک اور عہدیدار نے کا کہنا تھا کہ ایئربیس کو نشانہ بنانے والے طیارے ڈیسالٹ میراج ہیں جو متحدہ عرب امارات کے پاس ہیں۔خیال رہے متحدہ عرب امارات، اس اتحاد کا حصہ ہے جو لیبیا میں اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت (جی این اے) کے خلاف لڑنے والے کمانڈر خلیفہ حفتر کا ساتھ دے رہا ہے۔اس اتحاد میں مصر اور روس شامل ہیں جو خلیفہ حفتر کی عسکری مدد کررہے ہیں۔ترک عہدیدار نے ایئربیس پر ہونے والے حملے سے متعلق کہا کہ ‘کوئی جانی نقصان نہیں ہوا’۔لیبیا کے الوطیہ ایئربیس پر حملے میں تباہ ہونے والے ترک ایئر ڈیفنس نظام کے حوالے سے آزاد ذرائع کا کہنا تھا کہ ترکی نے گزشتہ ہفتے خطے میں ایم آئی ایم-23 میزائل نظام میں شامل کیا تھا۔اس سے قبل بھی رپورٹس تھیں کہ ترکی الوطیہ میں مستقل ایئربیس بنانے کی منصوبہ بندی کررہا ہے جبکہ ایئربیس پر حملہ ترک وزیر دفاع ہلوسی آکر کے دورہ لیبیا کے بعد کیا گیا۔مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق ترک فورسز کے خلاف ہونے والے اس حملے میں اور بھی اشارے ملے ہیں کہ اس میں متحدہ عرب امارات ملوث ہوسکتا ہے۔متحدہ عرب امارات کے سیاسیات کے پروفیسر اور شاہی خاندان کے جزوقتی مشیر عبدالخالق عبداللہ نے ایک ٹوئٹ کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ‘متحدہ عرب امارات نے ترکوں کو سبق سکھادیا ہے’