طرابلس : جنگ زدہ لیبیا میں رمضان کے مقدس مہینے کی آمد کے ساتھ رضاکاروں کا ایک گروپ قرآن پاک کے نایاب ، قدیم یا خستہ حال نسخوں کو بحال کرنے کیلئے 24 گھنٹے کام کر رہا ہے۔ میڈیا کے مطابق لیبیا کے معروف کاریگر خالد الدریبی ماہ رمضان میں صبح سے شام تک طرابلس میں قائم اپنی ایک ورکشاپ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔خالد الدریبی کا کہنا ہے کہ ماہ رمضان میں قرآن کی فروخت میں اضافہ ہو جاتا ہے روایتی طور پر قرآن پاک کے نئے نسخے مارکیٹ میں اس حد تک دستیاب نہیں ہوتے کہ ضرورت پوری کی جا سکے۔بہت سے افراد قرآن کے ایک سے زائد نسخے بھی حاصل کرتے ہیں اور ضرورت کے تحت پرانے اور خستہ حال نسخوں کو دوبارہ ترتیب اور جلد بندی کر کے ان کو بالکل نئے جیسا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ سب اس لیے بھی ہے کہ ان دنوں ملک میں طباعت انتہائی محدود ہے۔حالیہ جنگی صورتحال کے باعث شمالی افریقہ کے ملک لیبیا کے بہت سے اداروں میں بے ترتیبی پائی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ تیل سے مالا ملک کی معیشت کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔
خالد الدریبی نے بتایا کہ قرآن پاک کا نیا نسخہ حاصل کرنے کی استطاعت نسبتا کم ہونے کے باعث پرانے ترتیب دیئے گئے نسخوں کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔قرآن کانئے نسخے کی طباعت اور جلد کے لحاظ سے اس کا ہدیہ تقریبا 20 ڈالر کے قریب ہے جب کہ الدریبی کی ورکشاپ میں بحال کیا گیا قرآن کا نسخہ چند ڈالر میں دستیاب ہے۔قرآن کے پرانے نسخوں میں دلچسپی نہ صرف لاگت کے خاص عنصر کے باعث ہیں بلکہ ان کاپیوں کے ساتھ مسلمانوں کی جذباتی وابستگی بھی بتائی جاتی ہے۔ بہت سے مسلمان قدیم نسخوں کو مرمت کروا کر اسے پڑھنے کو سعادت سمجھتے ہیں۔