طرابلس۔ 8 جون (سیاست ڈاٹ کام) متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش نے کہا ہے کہ لیبیا میں ریاستی سرپرستی کے سائے میں ملیشیاؤں کے ہتھیاروں کو قانونی حیثیت دینے کے حوالے سے عرب ممالک میں تشویش پائی جاتی ہے۔ انہوں نے اس امر کو مسترد کرتے ہوئے زور دیا کہ لیبیا کا بحران صرف بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ اپنی سلسلہ وار ٹویٹس میں قرقاش نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت سے ایسے اندیشے ہیں جن کو عالمی برادری قبول نہیں کر سکتی ، ان میں سرفہرست لیبیا میں لڑائی کا جاری رہنا ہے۔ اماراتی وزیر مملکت نے مزید کہا کہ اس حوالے سے جائز تشویش پائی جاتی ہے کہ جنگ اور امن کا فیصلہ ریاست کے اداروں کے ضمن میں رہے۔ ایک اور عرب ملک میں ریاستی پردے کے نیچے ملیشیاؤں کے ہتھیاروں کو قانونی صورت دینے کو مسترد کرتے ہیں۔ اس حوالے سے واحد راستہ لیبیا کے فریقوں کے درمیان سیاسی حل ہے۔قرقاش کے نزدیک لیبیا کے حوالے سے مصری منصوبے کے لیے امریکی قومی سلامتی کی تائید سے فوری فائر بندی اور غیر ملکی افواج کے انخلا کے حوالے سے عرب اور بین الاقوامی زورِ حرکت کو تقویت ملے گی۔یاد رہے کہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے ہفتے کے روز ایک سیاسی منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ اس کا مقصد لیبیا میں معمول کی زندگی کی طرف واپسی کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔ السیسی نے بحران کے حل کے لیے عسکری راستہ کو پکڑے رہنے سے خبردار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیاسی حل ،،، اس بحران کے حل کا واحد راستہ ہے۔یہ منصوبہ اعلانِ قاہرہ کے نام سے سامنے آیا ہے۔ منصوبے میں زوردیا گیا ہے کہ لیبیا کی یک جہتی کے حوالے سے تمام تر بین الاقوامی قرار دادوں اورسے فائر بندی کا احترام کیا جائے۔گذشتہ روز مصر کے اس منصوبے کا بین الاقوامی سطح پر بالخصوص امریکہ، یورپ اور عرب ممالک کی جانب سے بھی خیر مقدم کیا گیا۔ دوسری جانب لیبیا میں وفاق حکومت نے اپنے وزیر داخلہ کی زبانی یہ موقف دہرایا کہ سرت شہر اور لیبیائی فوج کے ہاتھوں میں موجود دیگر علاقوں پرکنٹرول حاصل ہونے تک معرکہ آرائی جاری رہے گی۔