l روس، لیبیا میں سیاسی تصفیہ میں اپنا رول ادا کرنے کوشاں
l روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف کا انٹرویو
ماسکو: لیبیا کے منظر نامے میں تیزی سے پیش رفت سامنے آ رہی ہیں۔ روس نے باور کرایا ہے کہ وہ 2011ء سے جنگ میں ڈوبے ہوئے ملک میں سیاسی عمل کو سپورٹ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اس سے قبل وفاق حکومت کے سربراہ فائز السراج نے چہارشنبہ کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ آئندہ ماہ اکتوبر کے آخر تک اپنے منصب سے دستبردار ہونے کے لیے تیار ہیں۔روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے جمعہ کے روز روسی خبر رساں ایجنسی ’’اسپٹنک‘‘کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ ماسکو لیبیا میں سیاسی تصفیے میں حصہ ڈالنے کیلئے کوشاں ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ لیبیا میں بنا کسی استثنیٰ تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ رابطہ جاری ہے۔روسی وزیر خارجہ نے بتایا کہ چند روز قبل انقرہ میں تْرکوں کے ساتھ مشاورت ہوئی. اس کے علاوہ لیبیا کے حوالے سے مصر اور مراکش کے ساتھ بھی رابطے ہوئے ہیں۔ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اولو نے چہارشنبہ کے روز “سی این این” (ترکی) چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ترکی اور روس کے ذمہ داران کچھ عرصہ قبل انقرہ میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران لیبیا میں فائر بندی اور سیاسی عمل کے حوالے سے اتفاق رائے کے قریب آ گئے۔ادھر اقوام متحدہ اور جرمنی کے ذمہ داران نے عربی روزنامے الشرق الاوسط کو جمعہ کو بتایا کہ آئندہ ماہ کی 5 تاریخ کو اقوام متحدہ اور جرمنی کی سرپرستی میں دوسری بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کی تیاریاں جاری ہیں۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کی لیبیا میں خصوصی ایلچی اسٹیفنی ولیمز کا کہنا ہے کہ لیبیا میں سیاسی عمل کو زندہ کرنے کے لیے موقع ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان فرحان حق کے مطابق اقوام متحدہ اور جرمن حکومت لیبیا کے حوالے سے 5 اکتوبر کو انٹرنیٹ کے ذریعے ایک نئی کانفرنس کے انعقاد کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کانفرنس میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل، متعدد جرمن ذمے داران، متعدد ممالک کے وزراء خارجہ کے علاوہ لیبیا میں تنازعہ کے دونوں فریقوں کے نمائندے شریک ہوں گے۔اس سے قبل رواں سال جنوری میں جرمنی کے شہر برلن میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں لیبیا کے تنازعہ سے مربوط تمام ممالک نے شرکت کی تھی۔ اس موقع پر شریک ممالک نے ہتھیاروں اور جنگجوؤں کی صورت میں متحارب فریقوں کی امداد روک دینے کا وعدہ کیا تھا۔واضح رہے کہ سوئٹزرلینڈ کے شہر مونٹرو میں گذشتہ ہفتے لیبیا کے فریقوں کا ایک مشاورتی اجلاس ہوا تھا۔ اجلاس کے دوران شرکاء نے 18 ماہ کے اندر انتخابات کے اجرا، صدارتی کونسل کی تشکیل نو اور قومی یکجہتی کی حکومت کی تشکیل پر موافقت کا اظہار کیا۔اس سے قبل مراکش کے شہر بوزنیقہ میں لیبیا کی اندرونی سطح پر پارلیمانی بات چیت ہوئی۔ اس کا مقصد ملک میں سیادت کو مضبوط بنانے کے لیے اداروں کو یکجا کرنا تھا۔ اسی طرح شرکاء نے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے اور ستمبر کے آخری ہفتے میں ان ملاقاتوں کو دوبارہ شرع کرنے پر اتفاق رائے کا اظہار کیا۔
