لیبیا کے مرکزی بنک کا سربراہ ملک سے فرار

   

طرابلس : لیبیا کے مرکزی بنک کے گورنر صادق الکبیر نے کہا ہے کہ انہیں اور ان کے سینیئر بنک حکام کو زبردستی ملک سے نکال دیا گیا ہے۔ تاکہ ہم اپنی زندگی کی امان چاہتے ہیں تو ہم لیبیا چھوڑ دیں۔ یہ بات مرکزی بنک کے سربراہ کے حوالے سے ‘فنانشل ٹائمز’ نے جمعہ کے روز رپورٹ کی ہے۔رپورٹ کے مطابق مرکزی بنک کے سربراہ اور ان کے سینیئر رفقاء￿ کو مرکزی عسکریت پسندوں کی طرف سے دھمکیاں دی جا رہی تھیں اور حملے کا خطرہ تھا۔ ان عسکریت پسندوں نے بعض اوقات حکام اور ان کے بچوں اور رشتہ داروں کو بھی اغوا کر لیا تھا۔صادق الکبیر نے کہا عبوری وزیر اعظم عبدالحمید الدبیبہ کی طرف سے انہیں تبدیل کرنے کی کوششیں غیر قانونی تھیں۔ نیز مرکزی بنک اور اقوام متحدہ کے درمیان معاہدوں اور ممکنہ معاہدوں کے بھی خلاف تھیں۔خیال رہے لیبیا کے مرکزی بنک کے حوالے سے جاری بحران نے ملک میں عدم استحکام کی ایک نئی صورت حال پیدا کر رکھی ہے۔ تیل پیدا کرنے والے اس بڑے ملک میں مغربی اور مشرقی کی بنیاد پر تقسیم اور تصادم کی فضا ہے۔اسی ہفتے کے شروع میں اقوام متحدہ کا بھیجا گیا وفد لیبیا پہنچا تو اس نے یکطرفہ فیصلوں سے گریز کا مشورہ دیا تھا۔ نیز آئل فیلڈز سے فورسز کو ہٹانے اور باہمی تنازعات کے لیے فورس کے استعمال میں اضافے کو بھی روکنے کے لیے کہا۔ نیز بنک ملازمین کے تحفظ کے لیے اقدامات کا کہا تھا۔