لیٹرل انٹری پر این ڈی اے میں پھوٹ

   

نئی دہلی : مرکز کی وزارتوں میں جوائنٹ سکریٹری، ڈائرکٹر اور ڈپٹی سکریٹری کے 45 عہدوں پر سیدھی بحالی (لیٹرل انٹری) کا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ مودی حکومت کے اس فیصلے کی کانگریس اور سماج وادی پارٹی سمیت اپوزیشن کی کئی دیگر پارٹیوں نے سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے ایس سی۔ ایس ٹی، پسماندوں اور دیگر محروم طبقوں کا حق چھیننے والا اور آئین کو ختم کرنے کی سازش بتایا ہے۔ اب اس فیصلے کے خلاف این ڈی اے میں بھی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) نے لیٹرل انٹری پر اپنا رخ واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی ایسی تقرریوں کے حق میں نہیں ہے۔ اس سلسلے میں چراغ پاسوان نے کہا کہ جہاں بھی تقرریاں ہوتی ہیں وہاں ریزرویشن کے نظم پر عمل کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ بالکل غلط ہے اور وہ اس معاملہ کو حکومت کے سامنے اٹھائیں گے۔ جے ڈی یو کے سینئر قائد کے سی تیاگی بھی سیدھی بحالی پر چراغ پاسوان کے ساتھ کھڑے دکھائی دیے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی شروع سے ہی حکومت سے محفوظ سیٹوں پر تقررات کرنے کی بات کہتی آئی ہے۔
ہم رام منوہر لوہیا کو مانتے ہیں۔ جب لوگوں کو صدیوں سے سماج میں پسماندگی کا سامنا کرنا پڑا تو آپ میرٹ کیوں ڈھونڈ رہے ہیں؟ کے سی تیاگی نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت اس طرح کے فیصلے کر کے اپوزیشن کو مواقع فراہم کر رہی ہے۔