واشنگٹن ۔ وائٹ ہاؤس میں کرسمس کے موقع پر امریکی صدر کی عوام کے ساتھ ٹیلی فون کالز کے دوران ایک شخص نے صدر جو بائیڈن کو ایک ایسا جملہ کسا جو اْن کے مخالفین میں کافی مقبول ہے تاہم بظاہر صدر بائیڈن اسے سمجھ نہیں پائے۔ یہ تب ہوا جب صدر بائیڈن اور خاتونِ اوّل جِل بائیڈن مختلف خاندانوں سے کرسمس کی مبارکباد دینے کے لیے فون پر باتیں کر رہے تھے۔کرسمس کے موقع پر ایسی فون کالز وائٹ ہاؤس کی روایت کا حصہ ہیں۔ کال کرنے والے شخص نے ایک جملے ‘لیٹس گو برینڈن‘ کا استعمال کیا جو کہ صدر بائیڈن کے مخالفین کے نعرے کے طور پر معروف ہو چکا ہے۔ جمعہ کو صدر اور خاتونِ اول ریاست اوریگن کے ایک خاندان سے بات کر رہے تھے جس کے دوران کال کرنے والے نے اپنے بچوں کا تذکرہ کیا اور کہا کہ ان کے ایک بچے کو پیانو چاہئے اور دوسری بچی کو باربی گڑیا جس پر بائیڈن نے انہیں سو جانے کا مشورہ دیا کہ اگر وہ جلد نہیں سوئیں گے تو سانٹا کلاز اُن کے پاس نہیں آئے گا۔ جس پر بچوں کے والد نے ’لیٹس گو برینڈن‘ کہا جو بائیڈن کے مخالفین میں کافی مقبول ہے لیکن بائیڈن اس طنز کو نہیں سمجھ سکے۔