٭ اسپیشل آفیسر کا تقرر بھی کیا جاسکتا ہے : کے ٹی راما راو
٭ مجلس کی تائید کے حصول میں پس و پیش کا اظہار
٭ انتخابی مہم میں اشتعال انگیزی سے نتائج پر اثر
٭ نتائج مایوس کن تاہم سبق آموز ہیں۔ ریاستی وزیر
حیدرآباد : ٹی آر ایس گریٹر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے معاملے میں جلد بازی کی بجائے ’انتظار کرو اور دیکھو ‘ کی پالیسی پر عمل کرنا چاہتی ہے۔ مجلس سے تائید طلب کرکے بدنام ہونا نہیں چاہتی۔ ضرورت پڑنے پر اسپیشل آفیسر کا تقرر کرکے کام چلانے کے حق میں ہے۔ پارٹی کے ورکنگ صدر کے ٹی آر نے شہر کے وزراء، ٹی آر ایس ارکان اسمبلی اور نومنتخب ٹی آر ایس کارپوریٹرس کے علیحدہ اجلاس میں تازہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا اور مختلف اُمور پر تبادلہ خیال کیا۔ نتائج سے مایوس نہ ہونے اس سے سبق حاصل کرنے کا مشورہ دیا اور کہاکہ جہاں موجودہ کارپوریٹرس کو تبدیل کیا گیا وہاں نتائج ٹی آر ایس کے حق میں آئے۔ جہاں موجودہ کارپوریٹرس کو ٹکٹ دیا گیا وہاں نتائج خلاف آئے۔ ایسے نتائج اسمبلی انتخابات میں آسکتے ہیں لہذا ابھی سے تیاریاں شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ مرکزی حکومت بیک وقت اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات پر غور کررہی ہے اس کیلئے ہمیں تیار رہنا ہے ۔ جو نقائص ہیں ان کو جلد دور کرنا چاہئے۔ کے ٹی آر نے پہلے وزراء اور ارکان اسمبلی بعدازاں نومنتخب کارپوریٹرس کا اجلاس طلب کیا۔ ان سے تجاویز طلب کرنے کے علاوہ مشورے بھی دیئے۔ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ جس طرح جی ایچ ایم سی انتخابات منعقد ہوئے اس کا سنجیدگی سے جائزہ لیا گیا اور کے ٹی آر نے کہاکہ انتخابات میں اشتعال انگیزی اور مذہبی جذبات کا استحصال کیا گیا جس کی وجہ سے نتائج اس طرح سے برآمد ہوئے۔ پھر بھی ٹی آر ایس سب سے بڑی پارٹی بن کر اُبھری ہے۔ نتائج سے ٹی آر ایس کیڈر کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے، مگر چوکنا ہونے اور سبق لینے کی ضرورت ہے۔ جن نئے امیدواروں کو ٹکٹ دیا گیا وہاں نتائج ٹی آر ایس کے حق میں آئے۔ جہاں موجودہ کارپوریٹرس کو ٹکٹ دیا گیا وہاں نتائج ٹی آر ایس کے خلاف آئے ہیں۔ اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسے نتائج موجودہ ارکان اسمبلی، ارکان پارلیمنٹ کیلئے بھی برآمد ہوسکتے ہیں لہذا انھیں ابھی سے چوکنا ہونے کی ضرورت ہے۔ جو بھی غلطیاں، نقائص ہیں ابھی سے دور کرلیں تو ان کیلئے اور ٹی آر ایس کیلئے بہتر ہوگا۔ انھوں نے کہاکہ میئر و ڈپٹی میئرکا عہدہ حاصل کرنے کسی کو اکثریت نہیں ملی ہے۔ بی جے پی اور مجلس بھی اکثریت سے دور ہیں۔ ٹی آر ایس جلد بازی کی بجائے 10 فروری تک انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی پر قائم رہے گی۔ کے ٹی آر نے کہاکہ ٹی آر ایس کے جن کارپوریٹرس کو شکست ہوئی ہے، انھیں دور نہیں کیا جائیگا۔ ان کے متعلقہ ڈیویژنس میں 10 فروری تک وہی کارپوریٹرس رہیں گے۔ نومنتخب کارپوریٹرس نے بتایا کہ ایس آر ایس اسکیم اور سرکاری ملازمین کی ناراضگی سے بھی پارٹی کو نقصان ہوا ہے۔ کے ٹی آر نے اس پر کہاکہ سرکاری ملازمین کی ناراضگی اور ایل آر ایس کے جو بھی مسائل ان کو جلد حل کیا جائے گا۔