مئیر و ڈپٹی مئیر کے انتخاب کیلئے مقررہ تعداد کی ضرورت نہیں

,

   

٭ اجلاس میں نصف ارکان کی شرکت لازمی ہوگی
٭ صرف ہاتھ اُٹھا کر تائید کا اعلان کرنا ہوگا
٭ وہپ کی خلاف ورزی پر بھی ووٹ قابل قبول
٭ تین سال تک تحریک عدم اعتماد کی گنجائش نہیں

حیدرآباد :۔ اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے انکشاف کیا کہ گریٹر حیدرآباد کے مئیر ، ڈپٹی مئیر کے انتخاب کیلئے ایک مخصوص تعداد کی ضرورت نہیں ہے ۔ قواعد کے مطابق 50 فیصد ارکان کی حاضری لازمی ہے ۔ اجلاس میں موجود ارکان مئیر ، ڈپٹی مئیر کے انتخاب کیلئے ہاتھ اُٹھا کر تائید کا اظہار کرسکتے ہیں ۔ نو منتخب کارپوریٹرس کے علاوہ ارکان پارلیمنٹ ، ارکان اسمبلی ، ارکان کونسل بحیثیت ایکس افیشو ممبرس حق رائے دہی سے استفادہ کرسکتے ہیں ۔ پہلے اجلاس میں نو منتخب کارپوریٹرس کو حلف دلایا جائیگا ۔ بعد ازاں مئیر ، ڈپٹی مئیر کے انتخاب کیلئے اعلامیہ جاری ہوگا ۔ جملہ ارکان میں نصف کی شرکت کو کورم مکمل ہونے کی حیثیت سے قبول کیا جائے گا ۔ مئیر اور ڈپٹی مئیر کا انتخاب کرایا جائے گا ۔ مئیر و ڈپٹی مئیر کے انتخاب کیلئے بھی ریٹرننگ آفیسر کا تقرر کیا جائے گا ۔ صرف ایک ہی پرچہ نامزدگی داخل ہونے پر بلا مقابلہ انتخاب کا اعلان کیا جائے گا ۔ ایک سے زائد امیدواروں کے پرچہ نامزدگی داخل کرنے پر ہاتھ اٹھا کر تائید کرنے انتخابات کرائے جائیں گے ۔ مسلمہ جماعتیں پارٹی وہپ جاری کرسکتی ہیں ۔ مئیر ، ڈپٹی مئیر کے انتخاب کیلئے کسی پارٹی کو کیمپس کا انعقاد کرنے کی اجازت نہیں رہے گی ۔ ان انتخابات میں رائے دہندوں کو عہدوں ، یا کنٹراکٹ کا لالچ دینے کی اجازت نہیں رہے گی ۔ انتخابی قواعد یا پارٹی وہپ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی ۔ کونسل کے خصوصی اجلاس سے کم از کم ایک گھنٹہ قبل وہپ جاری کرنا ہوگا ۔ وہپ جاری کرنے کا اختیار ارکان کے علاوہ ارکان نہ رہنے والے پارٹی کے دیگر قائدین کو بھی رہے گا ۔ مئیر عہدے کیلئے مقابلہ کرنے والوں کو اور وہپ کی اجرائی کے لیے متعلقہ قائدین کو ان کی پارٹی صدر سے اختیار دینے کا مکتوب حاصل کرنا ضروری ہے ۔ وہپ کی خلاف ورزی کرنے والے ارکان کے خلاف کارروائی ہوگی ۔ وہپ جاری کرنے والے قائد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اندرون تین یوم پریسائیڈنگ آفیسر سے تحریری شکایت کریں جس کی بنیاد پر ریٹرننگ آفیسر اندرون 7 یوم وہپ کی خلاف ورزی کرنے والوں کو نوٹس جاری کریں گے ۔ نوٹس حاصل کرنے والے ارکان اندرون 30 یوم وضاحت کریں بصورت دیگر ریٹرننگ آفیسر اور ایک نوٹس جاری کریں گے ۔ وہپ کی خلاف ورزی کرنے والے ارکان کا مئیر کو دیا جانے والا ووٹ قابل قبول ہوگا ۔ تاہم انہیں ریٹرننگ آفیسر کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کا جواب دینا ہوگا ۔ اگر وہپ کی خلاف ورزی کرنے والے رکن کا جواب تشفی بخش نہ ہوگا تو اس کو کونسل کی رکنیت سے محروم ہونا پڑے گا ۔ جی ایچ ایم سی میں ٹی آر ایس سب سے بڑی جماعت ہے ۔ اس کے 56 ارکان ہے جب کہ بی جے پی کے 48 اور مجلس کے 44 ، کانگریس کے 2 ارکان ہیں ۔ کونسل کے پہلے اجلاس میں کس پارٹی کے پاس کتنے ایکس آفشیو ارکان ہے اس کی تعداد کا پتہ چلے گا ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق پتہ چلا ہے کہ ٹی آر ایس کے 35 ، مجلس کے پاس 10 ، بی جے پی کے پاس 3 اور کانگریس کے پاس ایک ایکس آفشیو ممبرس ہیں ۔ مئیر و ڈپٹی مئیر کو عہدوں سے ہٹانے کے لیے صرف تحریک اعتماد ہی پیش کرنا ہوگا ۔ تحریک عدم اعتماد کی نوٹس تین سال تک نہیں دی جاسکتی ہے ۔ اگر مئیر یا ڈپٹی مئیر رضاکارانہ طور پر مستعفی ہوجاتے ہیں تو دوبارہ انتخاب ہوگا ۔